Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
بحریہ کالج (اسکول)‌ ڈرائیورز بدمعاشی پر اتر آئے، ساتویں‌ کلاس کے طالب علم پر تشدد | زرائع نیوز

بحریہ کالج (اسکول)‌ ڈرائیورز بدمعاشی پر اتر آئے، ساتویں‌ کلاس کے طالب علم پر تشدد

کراچی: بحریہ فاؤنڈیشن کالج ( اسکول ) میں طلباء و طالبات کے لئے پک اینڈ ڈراپ کی سروس مہیا کرنے والے ڈرائیور بھی بدمعاشی میں اتر آئے

تیسری کلاس کا معصوم بچہ شارف کو 7 کلاس کے مقبول عمر نامی لڑکے نے اترنے کے دوران وین سے دھکا دیا جس کے سبب محمد شارف سڑک پر نیچے گرتے گرتے پیچھے سے آنے والی موٹر سائیکل سے ٹکرا گیا۔

والد سلمان نقی کے مطابق ناظم آباد پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروانے اور ان کی جانب سے ایم ایل رپورٹ بنانے کے باعث پولیس نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی، ایڈیشنل آئی جی کراچی کے واٹس ایپ کمپلین سیل میں بذریعہ واٹس ایپ درخواست دینے کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہوسکی۔

تھانہ ناظم آباد کے ہیڈ محرر ستار نے اسکول میں جاکر بچوں کے بیانات بھی لیئے اور اس بات کی تصدیق بھی ہوگئی ہے شارف نامی بچے کو دھکا دے کر گاڑی سے پھینکا گیا تھا، ہیڈ محرر کا کہنا ہے کہ ہم بچے کو تھانے نہیں بلائیں گے کیونکہ ان کے دماغ میں غلط اثر پڑے گا لیکن میرے بچے کے ساتھ جو غلط ہوا اس کے والدین کو تو بلایا جاسکتا تھا ۔

والد کے مطابق اسکول وین کا ڈرائیور محمد ریاض اکثر و بیشتر اپنے 20 – 22 سالہ بیٹے کو بھیج دیتا ہے بچوں کو اسکول سے اٹھانے کےلئے جو کہ ایک ناتجربے کار ڈرائیور ہے اس کی شکایت ڈرائیور محمد ریاض اور اس کے ٹھیکیدار سے بھی کئی بار کی جاچکی ہے کوئی عملدرآمد نہیں کیا جاتا

سلمان نقی کے بتایا کہ واقعہ 09 اپریل 2019 کو پیش آیا تھا الله نہ کرے یہ چھوٹا واقعہ ہوا تھا اگر میرے بیٹے کے ساتھ بڑا سانحہ ہوجاتا تو پولیس ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہتی، میں روز ناظم آباد تھانے جاتا ہوں مجھے روز واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ تم کل آنا پرسوں آنا مجھے ایسا لگ رہا ہے پولیس نے عمر مقبول کے والدین سے مل کر پیسے لے لیئے ہیں اسی لیئے مجھے گھمارہے ہیں۔

متاثرہ بچے کے والد نے آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر احمد شیخ صاحب سے مطالبہ کیا ہے کہ ناظم آباد پولیس کے اس ناروا رویہ کے خلاف اپیل کرتا ہوں اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائے اور مجھے اور میرے بیٹے محمد شارف کو انصاف فراہم کیا جائے۔ تھانے میں جمع کروائی گئی درخواست اور ایم ایل رپورٹ اور میرے بیٹے شارف کی زخمی حالت میں تصویر اس پوسٹ کے ساتھ منسلک ہے ۔۔۔۔۔ رابطہ ۔۔۔۔ 03323224343