میجر جنرل آصف غفور
دوستو یوں تو انٹر سروسز پبلک ریلیشنز یعنی آئی ایس پی آر میں بڑے بڑے نامور لوگ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ جنرل عاصم سلیم باجوہ، میجر جنرل اطہر عباس، مئجر جنرل وحید ارشد، اس کے علاوہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں میجر جنرل راشد قریشی بہت مشہور ہوئے اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں مشہور ادیب اور مزاح نگار بریگیڈیر صدیق سالک جیسے بڑے نامور لوگ اس ادارے سے وابستہ رہے اور سب نے اپنی پیشہ وارانہ مہارتوں کا لوہا منوایا
لیکن پچھلے کچھ عرصے میں ہم نے دیکھا کہ آئی ایس پی آر کا کردار ناصرف بہترین رہا بلکہ بہت ہی مختلف رہا۔ روایتی طور پر آئی ایس پی آر بطور فوجی ادارہ اپنے چیفس اور ادارے کی آگاہی کے لیے کام کرتا ہے۔ فوج کی اندرونی اور بیرونی دنیا کے درمیان رابطے کا ایک ذریعہ ہے لیکن پچھلے چند سالوں سے اس ادارے نے پوری دنیا میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قابلیت کی دھاک بٹھا دی ہے۔ جس کی صدائیں ہمیں وقتاً فوقتاً دنیا کے ہر ملک اور بین الاقوامی میڈیا سے بھی آتی رہتی ہیں
لیکن آئی ایس پی آر کو اس قدر ڈائنامک بنانے اور نیک نامی کمانے میں پاکستانی ملٹری کی تاریخ میں سب سے زیادہ جس شخص کا کردار رہا وہ بلاشبہ ہردلعزیز اور چاہے جانے والے موجودہ ڈی جی آئیس پی آر میجر جنرل آصف غفور صاحب ہیں
آصف غفور صاحب نے آئی ایس پی آر کو ناصرف فوج کی ترجمانی کے طور پر استعمال کیا بلکہ اس سے فوج کے خلاف اٹھنے والے پروپیگنڈوں کا بھی خوب مقابلہ کیا۔ چاہنے ان کی پریس کانفرنسز ہوں، ان کے ٹویٹس ہوں یا ملی نغمے اور ترانے ہوں۔ ان کا دشمن کو جواب دینے کا انداز ہی نرالا ہوتا ہے
میجر جنرل آصف غفور نے پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پر سرگرمیاں شروع کیں اور فوج کے امن کے پیغام کو سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلایا۔ سر آصف غفور نے پہلی مرتبہ نوجوانوں کے ساتھ کنیکٹ کیا اور نوجوانوں نے بھی ان کا خوب ساتھ دیا۔ اب جو بھی سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف بولتا ہے، اس کے لیے ہمارے محبِ وطن نوجوان ہی کافی ہیں۔
اس کے علاوہ موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے موجودہ نسل کو فتجھ جنریشن وار فئیر کا شعور اور آگاہی دی اور بتایا کہ دنیا میں کس طرح سے یہ جنگ لڑی جا رہی ہے۔ یہ جنگ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ آئیڈیاز سے لڑی جاتی ہے، یہ جنگ میدانوں اور پہاڑوں پر نہیں بلکہ ذہنوں میں لڑی جاتی ہے۔ ففتھ جنریشن وار فئیر میں دشمن کا ایک ٹویٹ ۔۔۔ کئی مارٹر بموں سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا ہمارے دور کا سب سے بڑا میدانِ جنگ بن چکا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر سر آصف غفور کی سب سے بہترین بات یہ ہے کہ وہ نہایت ہی ٹھنڈے مزاج کے انسان ہیں اور اپنی بات کو اس قدر جامع انداز میں کرتے ہیں کہ ترجمانی کا حق ادا ہو جاتا ہے۔ ان کی بات دشمنوں کے لیے دو دھاری تلوار کی مانند ہوتی ہے۔ ایک طرف سے ملک کے اندر بسنے والے غداروں کو کاٹتی ہے اور دوسری طرف سے سرحد پار بیٹھے دشمنوں کو کاٹتی ہے۔
آصف غفور صاحب نے جس طرح پلوامہ اٹیک کے بعد بھارت سے میڈیا کے میدان میں جنگ کی ہے، وہ اپنی مثال آپ تھی، ایک طرف ڈیڑھ ارب کی آبادی والا ملک بھارت اور دوسری طرف تنِ تنہا آصف غفور ۔۔۔۔ بھارت کے میڈیا نے اس قدر جھوٹ پھیلایا کہ خدا کی پناہ ۔۔ مگر آصف غفور صاحب کی ایک پریس کانفرنس ہوتی تھی اور بھارتی میڈیا کا جھوٹ دھویں کی طرح اڑ کر ہوا میں غائب ہو جاتا تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور صاب ایک ٹویٹ کرتے ہیں اور بھارت کا جھوٹا بیانیہ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ وہ پریس کانفرنس اور میڈیا بریفنگ کے ذریعے حقائق سامنے لے کر آتے ہیں اور پھر ٹویٹ سے ڈیڑھ ارب کی آباد کو ٹرول کرتے ہیں۔ حسِ مزاح بھی خوب ہے!!
حتیٰ کہ ایک سابق بھارتی جرنیل نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہم لوگ پاکستان فوج کی آئی ایس پی آر کے ادارے سے نہ چیت سکے، اور اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو بھی آئی ایس پی آر کی طرز پر ایک ادارہ بنانا چاہیے۔
پاکستان کی تاریخ میں بڑے ڈی جی آئی ایس پی آر آئے لیکن اللہ نے جو شہرت اور عزت سر آصف غفور کو دی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی
آئی ایس پی آر نے جس طرح میوزک کے ذریعے امن کا پیغام پھیلایا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ پاکستان کے اندر بیٹھے ہوئے ایجنڈاز پر کام کرنے بین الاقوامی ایجنسیوں کے نمائندوں نے اپنی ہی فوج کو ٹارگٹ بنائے رکھا لیکن ہماری افواج نے ایسے شرپسند عناصر کو ناصرف اگنور کیا بلکہ بہترین سے بہترین کام کیا۔ جب سے آصف غفور صاحب آئے ہیں تب سے فوج عوام میں بہت زیادہ پاپولر ہوئی ہے۔ یقین کیجیے آج ہر پاکستانی کہہ رہ اہے کہ آصف غفور پاکستان ملٹری کی تاریخ کے سب سے بہترین ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ ان کی سفارتکاری اور سٹریٹیجک پلاننگ کی صلاحیتوں سے پاکستان مسقبل میں بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے
دوستو میں نے یہ تحریر صرف اپنے ڈی جی اور انٹر سروسز پبلک ریلیشنز سے وابستہ دیگر لوگوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے لکھی ہے تا کہ عوام اور فوج کے درمیان فاصلے کم ہوں کیونکہ یہ فاصلے جتنے کم ہوں گے، پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے اتنا ہی اچھا ہو گا ورنہ دشمن ہر وقت اس تاک میں ہے کہ وہ ہماری صفوں میں انتشار پیدا کر سکے ۔ یہاں ضمیر جعفری مرحوم کے وہ خوبصورت اشعار یاد آ گئے کہ
دین اور کتاب ایک
زندگی کا خواب ایک
ملک قوم نام ایک
فوج اور عوام ایک
بلوچیوں، پنجابیوں کی آن اپنی زندگی
یہ زندگی ہوائے مہربان اپنی زندگی
یہ سرحدی دراز قد پٹھان اپنی زندگی
یہ پرچمِ روان و کامران اپنی زندگی
خیمہ و خرام ایک ۔۔ ملک قوم نام ایک
فوج اور عوام ایک
#Pak_Army
#5th_Generation_war
بشکریہ فیس بک
