کراچی شیعہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو صدر مملکت عارف علوی کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیے 10 روز گزرتے ہی مسنگ پرسنز کمیٹی کے چیئرمین راشد رضوی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، انتظامیہ کی جانب سے صبح کریک ڈاؤن کیا گیا جس کے تحت متعدد مظاہرین کو ہراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے 28 اپریل سے دھرنے کا آغاز کیا، مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ اُن کے 70 سے زائد پیارے لاپتہ ہیں۔ متعدد نوجوانوں کے اہل خانہ اس بات پر بھی بضد ہیں کہ اگر اُن کے بیٹوں، بھائیوں کے خلاف کوئی الزامات ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کردیا جائے۔
کراچی کے تھانے بہادرآباد میں عارف علوی کے گھر کے باہر جاری دھرنے کے خلاف مقدمہ اے ایس آئی کی مدعیت میں درج کرلیا گیا جس میں راشد رضوی سمیت متعدد شرکاء کو نامزد کیا گیا۔ مقدمے میں 147، 148، 149، 120بی، 121 ، 121-اے ، 341، 427 اور 505 ت پ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
Update!!! As per #ShiaMissingPersons Dharna participants Police has cordoned off the area and started arrested people. Hasan Raza Sohail one of the organizers has also been arrested. Received this video from family of Engr Mumtaz Hussain (missing) pic.twitter.com/kzm7WQEevv
— M. Jibran Nasir (@MJibranNasir) May 8, 2019
تعویز گل کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے کے متن میں بتایا گیا ہے کہ پولیس معمول کے گشت پر تھی کہ انہوں نے دیکھا شیعہ مسنگ پرسنز کا احتجاج جاری ہے، شیعہ مسنگ پرسنز دھرنے کے سرکردہ راشد رضوی، صغیر عابد، صفدر شاہ ولد اصغر شاہ، حسن رضا سمیت دیگر قرار دیے گئے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ دھرنا انتظامیہ کے اکسانے پر ڈھائی سو سے تین سو کے قریب افراد نے دھرنا دیا ہوا تھا، جو ڈنڈوں سے لیس پائے گئے اور انہوں نے نعرہ بازی، ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ کی ، جبکہ مظاہرین کی وجہ سے ٹریفک کی روانی اور پیدل چلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مظہارین نے ریاست مخالف اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف نعرے بازی کی اور مظاہرے میں ایسے خطابات دیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں فساد ہوسکتا ہے، پولیس اور اعلیٰ حکام نے مظاہرین کو دھرنا ختم کرنے کے لیے نوٹس بھی دیے مگر انہوں نے رابطہ نہ کیا۔
شیعہ مسنگ پرسنز کے اہل خانہ کو مظاہرے میں پہنچانے والے بس ڈرائیورتین روز بعد رہا
ہمارا دل نہیں چاہتا کوئی شخص لاپتہ ہو مگر۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے حقیقت بتا دی
