Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
پاکستان ہماری ماں ہمارا باپ ۔۔۔۔ تحریر: کامران رضوی | زرائع نیوز

پاکستان ہماری ماں ہمارا باپ ۔۔۔۔ تحریر: کامران رضوی

لوگ بہت سچ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ سچ لکھ نہیں سکتے یا سچ لکھنا نہیں چاہتے انہیں سچ یہاں سے شروع کرنا چاہیے کہ آل انڈیا مسلم لاٸیرز فورم مسلم لیگ کیسے بنی قاٸداعظم انگریزوں کے ایجنٹ تھے اور انکی پوری مسلم لیگی کمیٹی انگریزوں سے وظیفہ لیتی تھی سندھ پنجاب کے پی کے اور بلوچستان یہاں کے سرداروں اور اور قبیلوں کے بڑوں کو اقتدار ہر صورت چاہیے تھا اب وہ انگریز دے یا انگریزوں کے ایجنٹ دیں دلچسپ بات یہ کے جنہیں ہم مسلم اکثریت اب کہتے ہیں کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں پاکستان بنا تو کونسے مسلم اکثریت ان چاروں صوبوں کے 1947 کے علما حضرات بھی تو گنو یا گنواو تا کہ معلومات میں اضافہ ہو کہ یہاں 47 سے پہلے فلاں مدرسہ تھا فلاں فلاں علما اکرام یہاں سے تھے ہاں صوفی بزرگ ضرور تھے اور صوفی انسانیت کی خدمت کرتے تھے کسی مخصوص فرقہ کی نہیں پھر ان چاروں صوبوں میں نہ تو کوٸ انگریزوں کے خلاف جذبہ جہاد لے کے کھڑا ہوا اور نہ ہندووں اور سکھوں کے خلاف کوٸ دکھ کوٸ مسلہ اگر کچھ تھا تو یوپی اور سی پی کے مسلمان تھے ”بےگانی شادی میں دیوانے کا کردار“ ادا کر رہۓ تھے جبکہ جناح نے یوپی اور سی پی کے مسلمانوں کو پاکستان انے سے روکا تھا منع کیا تھا اور صاف لفظوں میں کہا تھا کہ یہ پاکستان وہ پاکستان نہیں جیسا تم نے سوچا ہے آگۓ ہم پھر بھی ہجرت کا دکھ ہم نے اٹھایا اور یہ دکھ ہندووں نے نہیں سکھوں نے ہمیں دیا راجھستان کا راستہ تو امن پسند تھا سچ لکھنا ہو تو پورا سچ لکھیں ادھورا سچ نقصان دے ہوتا ہے پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

اپ لکھو کہ دوسری جنگ عظیم میں پنجاب کا کرادر بہت بلند تھا یہ اپنے مغربی پنجاب والے انگریزوں کے حاکمیت کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے جانیں دیں پنجاب رجمنٹ اج بھی اپنی سالگرہ کب مناتا ہے تاریخ میں زرا سا جھانکیں تو صحیح۔ انگریز کو ہندوستان توڑنا تھا اور وہ ٹوٹا لڑاو اور حکومت کرو کس کا گھٹیا فلسفہ تھا۔ سارک ممالک کانفرانس بھاٸ کونسے سارک یہ وہ سات ممالک ہیں جو کبھی ہندوستان تھے ایک طاقت تھی برباد کیا انگریزوں نے ہمیں سات ممالک دے کر اور اسمیں ایک ہمارا پاکستان ہے جسکا مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کا اپس میں کوٸ ملاپ ہی نہیں سرحد تک کوی نہیں ملتی ہاں مذہب ایک تھا تو بنگال کو پنجاب سے شکایت کیوں انگریز نے یہاں بھی مسلمانوں کو ڈسا اور وقت دیا انگریزوں نے ان بنگالی غداروں کو اپ جب لکھو تو سچ لکھو کوٸ ضروری تو نہیں کے سب اپکو پسند کریں مگر اپ اپنی ذات میں تو مطمعین ہوگے کے اپ سچ لکھتے ہو۔

اس خطے کو جسے ہم پاکستان فخریہ کہتے ہیں اور یہ ہمارا فخر ہے بھی لکھنے والے لکھتے ہیں کہ 1940 قرارداد لاہور میں پاکستان میں ابادی کا تبادلے کا کوٸ زکر نہیں تھا تو بھاٸ 23 مارچ 1940 میں جو کانفرنس ہوٸ اسمیں پاکستان کا تو نام تک نہیں تھا وہ 1935 کے ہندوستانی آٸین کے خلاف تھی اور ہندوستان کے مسلموں کی اواز تھی اور میں کوٸ پانچ ہزار برس پرانی بات نہیں کر رہا 1935 کی بات کر رہا کون کون سے ان چار صوبوں کے جید عالم دین اسوقت 1940 میں موجود تھے تو بھاٸ تاریخ پڑھو 47 اگست سے کوٸ دو تین ماہ قبل ابھی پاکستان بنا نہیں تھا پنجاب رجمنٹ اپنا پورا زور انگریزوں پر لگا رہی تھی کے ہمیں الگ ملک دو اپکے سندھی قاٸد اعظم سندھی فاطمہ جناح جنہیں سندھی زبان کا علم نہیں تھا نہ اجرک پہنی نہ سندھی ٹوپی پیہنکر تصویریں کھنچوایں انہوں نے میرے قاٸداعظم نے اپنا رومال بچھا دیا تھا انگریزوں کے سامنے کہ مجھے چاہے اتنا سا پاکستان دو مگر دو مجھے بہت تلخ ہیں 1947 کے صبح و شام یہ جو میرے چار صوبے ہیں نہ اس میں سندھ پانچ نہیں چھے ہزار سالہ تاریخ رکھنے والا یہ ابتدا سے ہندو رہا بلوچستان کی تاریخ اتش پرستی سے بھری پڑی پنجاب کو اپنا رنجیت سنگھ 1839 میں ذندگی سے ہارا اور کے پی کے بقول غفار خان کہ کے ہم ابتدہ میں یہودی تھے پھر عیساٸ بنے پھر مسلمان ہمارا مذہب تبدیل ہوا لیکن ہم پختون ہی رہۓ اب ڈھونڈو تاریخ میں کے موسیٰ کے دور میں یہ پختون پشتو بولتے بھی تھے یا یہاں کوٸ ابادی تھی ہی نہیں ہاں ہم مہاجر عرب سے وابستہ ہیں اسلام کا پیغام جہاں جہاں پھیلا وہاں وہاں ہم اباد ہوے ہندوستان میں ہمیں ہندی سے چڑ محسوس ہوٸ یا انکی زبان ہندی بھی ہندوستانی لگی اسلیے ہم اردو بولنے لگے اور 1947 کے بعد سے ہم پاکستانی تھے ہیں اور ان شاء اللہ رہینگے اس پاکستان کی ترقی کے لیے ہرفیصلہ کرینگے اپ سندھ کی تقسیم کے خلاف ہو تو رہو جو لوگ ملک بناتے ہیں اور اپنے ملک کی ترقی چاہتے ہیں وہاں صوبہ یا شہر کب چھوٹا ہو اور کب بڑا ہو جاۓ ریاست جانے ہم لسانی صوبوں کا زکر بھی نہیں کرتے ملک کی ترقی ملک کے استحکام کے لیے ہمارے ملک کو میرے ملک کو شہروں کو صوبہ بنانا پڑے تو بناو سندھ کسی کے باپ کا نہیں پاکستان ہماری ماں ہمارا باپ ہے اسکا ہر فیصلہ سر انکھوں پہ۔۔۔۔۔۔