لندن: میٹروپولیٹین پولیس نے لندن کے شمالی لندن سے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کردی، اس ضمن میں ایک اعلامیہ میں جاری کیا گیا۔
پولیس اعلامیے کے مطابق منگل ۱۱ جون کے روز ایک شخص کو تفیتش کے لیے حراست میں لیا گیا جس کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے اور یہ پاکستانی جماعت ہے۔
اعلامیے میں گرفتار ہونے والے شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی البتہ عمر 60 برس بتائی گئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ متذکرہ شخص کو شمالی لندن سے گرفتار کیا گیا۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق ملزم کو اشتعال انگیز تقاریر اور قانونی ایکٹ 2007 کی شق 44 کی خلاف ورزی اور لوگوں کو اکسانے پر حراست میں لیا گیا۔ (یہ ایکٹ سنگین جرائم پر نافذ ہوتا ہے)
اسکاٹ لینڈ یارڈ نے یہ بھی بتایا کہ حراست میں لیا جانے والا شخص pace کے تحت تحویل میں ہے اور اُسے لندن کے جنوبی علاقے میں واقع پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے۔

شمالی لندن میں واقع ملزم کے گھر اور دفتر کی تلاشی کا عمل بھی جاری ہے جبکہ میٹ کاؤنٹر ٹیررازم کمانڈ کی سربراہی میں ایک ٹیم ملزم سے 2016 میں کی گئی اشتعال انگیز تقاریر کی تفتیش کررہی ہے جو بذریعہ مواصلات پاکستان میں کارکنان سے کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق پاکستانی حکام کی شکایت پر مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور ملزم سے بیان لے کر اُسے رہا کردیا جائے گا۔
اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تفتیش کا عمل جاری ہے اور دوران تفتیش پولیس و پاکستانی حکام آپس میں رابطے میں ہیں۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اس تفتیش کا مقصد محض یہ ہے کہ پاکستان کے جو بانی ایم کیو ایم کے حوالے سے الزامات تھے وہ ان کی موجودگی میں اسکاٹ لینڈ یارڈ دہرائے گی جسے تسلیم یا مسترد کرنا الطاف حسین کا اختیار ہوگا۔
اس عمل کے بعد بانی ایم کیو ایم کو اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں سزا یا مزید تفتیش کا اعلان کیا جائے گا، تاہم قوی امکان ہے کہ انہیں باعزت بری کردیا جائے۔
ایم کیو ایم ذرائع کے مطابق بانی ایم کیو ایم کو بیان قلمبند کروانے کے لیے پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا اور وہ شام تک واپس آجائیں گے۔ البتہ اس حوالے سے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
