کراچی کو پیرس نہیں‌ بنائیں بس مسئل حل کریں؟ تحریر عدیل رضا عابدی 

کراچی کو پیرس نہ بنائیں بلکہ کراچی میں قائم غیر قانونی کچی بستیوں کو ختم کرنے کی بات کریں، آپ کراچی اور کراچی والوں سے مخلص ہیں تو کراچی کو پانی، بجلی، سڑک، میٹرو جیسے آسرے نہ دیں بلکہ کراچی کو غیر قانونی و غیر مقامی جرائم پیشہ افراد، ٹرانسپورٹ مافیا اور واٹرٹینکر مافیا سے آزاد کروائیں۔

خدا کا واسطہ فنڈز کے لیے رانڈ بیواؤں کی طرح رو کرکراچی میں گڈ گورننس نام کے عفریت کو بوتل مین بند کر کے رنجش ہی سہی، دل ہی دکھانے کے لیے بلدیہ عظمیٰ کو مکمل اختیارات کے ساتھ بحال کردیں،ان کی تنخواہیں دے دیں اور اپنے پیارے گھوسٹ ملازمین کو فارغ کردیں۔

سیانے کہتے ہیں کہ عدل ایک زبردست قوت کا نام ہے لیکن لوگ یہی بھول جاتے ہیں کہ ایک دفعہ سڑک کی جھاڑو، کیمرے کے سامنے راشن کی بوری کے بوجھ تلے دوسرے کا ضمیر روندھنا، کچرا کنڈی کی سالانہ بنیاد پر صفائی اور اسی حساب سے برساتی نالوں کی تلاش(جو چائنا کٹنگ اور تجاوزات کو پیارے ہوجاتے ہیں)،تو یہ بڑا شہر ہے بڑا جگر مانگتا ہے، مسلسل کام کیجے تاکہ تعریف کے پل ٹوٹنے نہ پائیں۔

ان پر کام کیجے حضور!!!

جو زبان یہ کہتے نہیں تھکتی کہ یہ شہر سب سے بڑا اور آبادیوں میں منفرد ہے ان کے لیے عرض ہے کہ یہاں جو جرائم پیشہ افراد،بشمول غیر قانونی افغان و اہالی پنجاب و کے پی، (محنت کشوں اور غرباء نہیں) کونوں کھدروں میں جا بسے اور چمٹ گئے ہیں ایسی جونکوں کا صفایا کرنے ابابیل کا لشکر نہیں آنے کا، جو راؤنڈ اپ شرفا کے مُحلّوں کا کیا جاتا ہے اس کے عشر عشیر بھی ذری ان غیر قانونی اڈوں کا کرلیں تو کیا بات ہے۔

یقین نہیں آتا؟ ایمپریس مارکیٹ جاییے، شیر سے لے کر روسی میزائل تک مل جاوے ھے، اور زلف یار کی طرح بل کھاتے روڈ کو مہاجروں پر عرصہ حیات کی طرح تنگ کردیا جاتا ہے، وجہ؟ چائے خانے، جوتا،چپل، لنڈا کاسامان ، الغرض پورا آسمان ان کے ٹھیلوں کی زینت ہے جو پتھارے بھتوں کے سہارے چلارہے ہیں اور آپ اندھے فقیر کا کردار نبھا رہے!!!!

منشیات، پانی چوری، ملیر سے مٹی ڈھونا، کنسٹرکشن مافیہ کہاں سے آتا ہے کہ آپ دنیا و مافیہا بھول کر بس ہمیں صلوات سنانے لگ جاتے ہیں۔۔۔ سرکار!ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ آپ کے پاؤں کی مٹی کھینچ کر آپ سے رقم کا تقاضہ کر دیا جایےگا یا اس شہر میں اتنے غیر مقامی بھر جائیں گے کہ قانون سب کے ہاتھوں میں شیر خوار بچوں کی طرح کھیل رہا ہوگا، زیادہ کچھ نہیں کرسکتے تو کیماڑی، لانڈھی، میٹروول، سلطان آباد، معمار، ملیر ندی،پہلوان گوٹھ کی اطراف میں پکٹ لگائے پولیس والوں سے کہہ دیں کہ نو عمر جوڑوں اور دیر سے آنے والے والے ملازمین کے علاوہ ایک اور بھی مخلوق ہے جو چوری چکاری، نو سربازی اور امن عامہ کو نقصان پہچانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔

یہ شہر ہم سب کا

رہے نام اللہ کا

اپنا تبصرہ بھیجیں: