اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے جاری کی جانے والی متنازع ویڈیو کے حوالے سے حکومت فریق نہیں بنے گی البتہ اگر سپریم کورٹ یا کوئی بھی عدالت چاہیے تو نوٹس لے۔

معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بھی یہی بات کہی

ڈاکٹر صاحبہ سے پوچھا گیا کہ وہ کون سا میڈیا ہاؤس ہے جہاں جج ارشد ملک کی ٹیپ کی ایڈیٹنگ ہوئی تو وہ غصے میں آ گئیں انہوں نے کہا یہ تو چور کی داڑھی میں تنکا ہے پھر مؤقف بدل کر کہا کہ میڈیا ہاؤس کا مطلب صرف ٹی وی چینل نہیں ہوتا ایڈورٹائزنگ ایجنسی بھی میڈیا ہاؤس ہوتی ہے 😂 pic.twitter.com/vveV2p7UXP
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) July 8, 2019
حکومت کی ترجمان نے پہلے اعلان کیا کہ جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات خود حکومت کرائے گی اب حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ تحقیقات عدلیہ کرائے تو کیا عدلیہ کو فوری طور پر کارروائی شروع کر دینی چاہئیے تا کہ جھوٹ سچ کا جلدی فیصلہ ہو جائے؟#CapitalTalk
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) July 8, 2019
