Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
تشدد کا نشانہ بننے والے ایم کیو ایم کے بزرگ کارکن کا بیان سامنے آگیا | زرائع نیوز

تشدد کا نشانہ بننے والے ایم کیو ایم کے بزرگ کارکن کا بیان سامنے آگیا

کراچی: ایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم احمد طارق کی تیسویں برسی کے موقع پر عارضی مرکز بہادرآباد میں ایک پروگرام کے دوران بدمزگی ہوئی جس پر وہاں موجود کارکنان کی جانب سے ایک شخص پر تشدد کیا گیا۔

یہ بدمزگی اُس وقت شروع ہوئی جب مصطفیٰ کمال نے الزامات سے بھرپور خطاب کیا اور دعویٰ کیا کہ بانی ایم کیو ایم اس قتل اور منصوبہ بندی میں ملوث تھے، علاوہ ازیں انہوں نے اور بھی کئی دعوے کیے۔

مصطفیٰ کمال کا خطاب ختم ہونے کے بعد جب خالد مقبول صدیقی کو اسٹیج پر خطاب کیلیے مدعو کیا گیا تو پنڈال میں تھوڑی سی ہلچل  اور شور شرابہ ہوا، جس پر کارکنان پیچھے کی جانب بھاگے اور پھر ایک بزرگ کو مارتے ہوئے پنڈال سے باہر لے گئے۔

اس سارے معاملے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پنڈال سے جیب کترے کو پکڑا گیا تھا البتہ یہ کہانی ہضم نہ ہوئی تو پھر اس بات کو پھیلایا گیا کہ وہ بزرگ خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کررہے تھے۔

ذرائع کو اس بات کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ بزرگ نے مصطفیٰ کمال کی تقریر کے بعد احتجاج کیا جس پر انہیں ڈپٹی کنونیئر کے چاہنے والوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت اور بالخصوص مصطفیٰ کمال پر لعن طعن ہوئی اور واقعے کی شدید مذمت کی گئی۔

یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بزرگ تشدد کی وجہ سے موت اور زندگی کی کمشکش میں اسپتال میں داخل ہیں۔

بہت چھان بین کے بعد ذرائع نیوز نے متاثرہ بزرگ کا پتہ لگایا تو یہ بات سامنے آئی کہ اُن کا نام عمران شہزادہ ہے اور وہ ایم کیو ایم پاکستان میں ایک ذمہ داری پر ہیں۔

عمران شہزادہ نے اپنے بیان میں کہا ’مجھے ایم کیو ایم کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے، گزشتہ روز غلط فہمی کی بنیاد پر میں نے جو کچھ بات چیت کی اور جو بھی معاملہ ہوا، مجھ سے نظم و ضبط کی خلاف ورزی ہوئی، کل میری مصطفیٰ کمال بھائی اور انیس قائم خانی بھائی سے بات ہوئی جنہوں نے ساری چیزیں کلیئر کردی ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ اب مجھے اُن (مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی) سے کوئی شکایت نہیں ہے، میں ایم کیو ایم کا ذمہ دار ہوں اور میں نے اسی وجہ سے ایم کیو ایم جوائن کی اور اُسی میں کام کرنا چاہتا ہوں‘۔