آج پیپلز پارٹی سندھ قوم نے ایک نعرہ لگایہ ”یہ جو نیب گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے“ اور اسکے ساتھ ازادی کے نعرے بھی سنے یہ ملک ہے ہمارا جسے بھٹو پھر بے شہید رانی اسکے بعد اصف زرداری اس ہمارے ملک کے حکمراں بنے اس میں سے میں صرف بی بی شہید رانی کو نکال رہا ہوں وہ میری بہن تھی ہے اور رہیں گی باقی بھٹو اور زرداری کی نفرت اس ملک سے اگر میں گنوانا شروع کروں تو تو آپ لوگ سوچیں گے کہ جب یہ دونوں بھٹو اور اصف زرداری اتنے بڑے غدار وطن ہیں تو اس ملک کی فوج کیوں خاموش رہی۔
جی ایم سید سے آپ سب لوگ واقف ہیں جو 1947 میں پاکستان کا سب سے بڑا ہمدرد نظر آیا یا پھر دکھایا گیا، لیاری ندی پہ واقعہ بہار کالونی ہم ہندوستانیوں کے لیے اسی نے بسائی تھی اور ایک واقعہ یہ بھی ہے کے ایک اور سندھی پیر الہی بخش بھی یاد ہوگا آپ سب کو جس نے تین ہٹی پہ نالے کے ساتھ ایک کالونی جو سینٹرل جیل کراچی کے پیچھے تھی جب بھی وہ ایک کالونی پی آئی بی کالونی بسائی تھی یہ سوچ تھی ہم ہندستانیوں کے لیے جو اس ملک پاکستان کو اپنے سینہ پہ سجا کے آئے تھے۔
ان دو کالونیز کے علاوہ پورا کراچی کو بنایا سجایا سنوارا تعلیم و صحت روزی روزگار سب کچھ ہجرت کر کے آنیولوں اور ان کے بڑوں جو حکومت پاکستان میں بھی تھے انکے طفیل ہے ورنہ جی ایم سید جیسے لوگ جو 1947 میں قیام پاکستان کے بعد ملک کے بدترین مخالف بن چکے تھے وہ ہم مہاجروں کے لیے کیا کرتے اور سب سے کام کی بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی اکلوتی بنیاد جی ایم سید تھا ۔
آج مجھے ٹھیک ٹھاک جھاڑ پڑی ہے کیونکہ میرے دو کالم بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے حق میں تھے اپ سب جانتے ہیں کے میں الطاف حسین صاحب سے کبھی ملا ہی نہیں اگر مل لیتا تو پھر میں ان کے حق میں لکھتا تو ایم کیو ایم لندن میں ہوتا لیکن میرا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے ہے سچ بولنا سچ لکھنا یہ شاید میری تربیت ہے۔
کامران رضوی کی دیگر تحاریر:
ایم کیو ایم کا افطار ڈنر، تحریر کامران رضوی
سچ بول کر پاکستان بچائیں ۔۔۔۔ کامران رضوی
جب جھاڑ پونچھ ہوٸی تو میں نے سوچا کہ میں لکھتا ہی نہیں بجٹ پہ جو کھال غریبوں کی اتری ہے اسے فوکس کروں ایک بہت بڑا بجٹ جو ہم غریبوں سے اٹھ نہیں سکتا وہ ہمارے سر پہ ہے، 70 کھرب 36 ارب اور 30 کروڑ روپے کا اشیائے خورد و نوش مہنگ یا 1120 ارب روپے اور ٹیکس کا ہدف 5500 ارب روپے بھائی نیازی اعظم اتنا بڑا اور وزنی بوجھ کے لیے ہمیں معاف کرو ورنہ نوازشریف آصف زرداری حمزہ شہباز اور بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو جب پکڑوا ہی دیا ہے تو ہم سب کے لیے بھی ایک اس ملک کو جیل بنادو جہاں کھانا، گیس بجلی فری یہ ہم پاکستانیوں کو قبول ہے مگر اک تم اور اک تمہارا بجٹ ہمیں قبول نہیں کیونکہ آج صبح سے ہم ٹی وی چینلز پر جسطرح بانی ایم کیو الطاف حسین کی گرفتاری کی خبر چلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں تو ہمیں اندازہ ہو گیا کہ اس ملک میں پیمرا کے قانون کی کوئی حثیت نہیں اور نہ ہی بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کا نام لینا گناہ یا قانوناً جرم ہے۔
آج گیارہ جون 1978 کی یاد تازہ کردی آپ پرنٹ اور الیکٹرنکس میڈیا نے جب تو ٹی وی چینلز تھے نہیں اور پرنٹ میڈیا بھی APMSO کو کیا منہ لگاتا مگر آج APMSO کے یوم تاسیس پر اپ نے ایک بار پھر بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی گرفتاری کی خبر جس طرح بریکنگ نیوز کی طرز پر نشر کی تو وہ چھپی ڈرہ سہمی APMSO ایک بار پھر متحد ہوگئی۔ کراچی میں وہ یومِ تاسیس تو نہیں مناسکی لیکن بانی ایم کیو ایم کے ذکر نے ان کے ان سارے پروگرامز میں چار چاند لگا دیے ہیں جنھیں APMSO کرنا چاہتی تھی۔
لندن میں ایک دن کی گرفتاری وہ بھی انویسٹیگشن کے لیے بری نہیں ملک کے خلاف بانی ایم کیو ایم بولے وہ غلط کیا اب بھلے وہ کچھ افراد کے خلاف تھا یا ادارے کے وہ مضمون بھی اپنے اختتام کو پہنچے گا لیکن پاکستانی چینلز نے بانی ایم کیو ایم کی سو یا ہزار دانوں والی تسبیح نہیں بلکہ لاکھوں دانوں والی تسبیح پڑھ کر وہ کام کیا جو تاریخ میں امر ہوگیا۔
یہاں یہ بات ذکر کرنا بھی بہت ضروری ہے یاد دہانی کے لیے کہ ایم کیو ایم نے پاکستان میں اس قسم کی بےہودگی کبھی نہیں کی کے ” یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے “ اور نہ کبھی یہ نعرہ لگایا کے ” یہ جو نیب گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے “ ہم ملک اور قانون کا احترام کرنے والی قوم ہیں اس وطن پاکستان سے ہم ہیں پاک فوج اور آئین ہمارے محافظ ہیں یہ بارودی سرنگیں یا ملک کے خلاف غدار وطن ہونا PTM اور PPP کی سچائی ہے ورنہ غدار تو ہے صرف اکلوتا الطاف حسین ہی ہے۔
