USSR ایک عالمی طاقت تھی اور ظاہر ہے کے بہت بڑی اٸیٹمی قوت بھی تھی لیکن وہ ٹوٹی اور اسکا نظریہ بکھرا بھی بہت سی ازاد ریاستوں نے جنم بھی لیا ملکوں کی تعداد بڑھی رشیا کے بکھرنے کی وجہ معاشی بحران تھا اور رقبہ کے لحاظ سے ابادی کے لحاظ سے تو وہ مساٸل کا شکار تھا ہی مگر رشیا کی وہ جنگ جو افغانستان میں برسوں لڑی گٸی وہ اخری جنگ تھی وہاں اور USSR روس ہو گیا USSR میں یہودی عیساٸ اور مسلم اباد تھے جو ہر مذہب کے باغی تھے اور وہ کمیونسٹ نظریہ کے پابند تھے مطلب دین وہاں نہیں دنیا کا سب سے بڑا ملک ابادی بھی ارب سے زیادہ اٸیٹمی طاقت بھی لیکن کرنسی کی مار نے USSR کو تقسیم کردیا جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ USSR خود کو مزید پلس کرنے کی وجہ سے ماٸنس ہوگیا۔
اب ہمارا سابق صدر پرویز مشرف کہتا رہۓ کہ USSR ہم نے توڑا تو بھائی صدر تو صدر ہے وہ جو چاہے کہے اسے کون روک سکتا ہے ہم جیسے لوگ تو اب بھی باتوں میں اجاتے ہیں کہ ہم ایٹمی قوت ہیں اسلیے دنیا کی بڑی طاقتیں ہم سے خوفزداہ ہیں جبکہ ہمارا معاشرہ تقسیم در تقسیم ہے مذہب الگ فرقہ الگ پھر زبان الگ ہم نے ایک ابھینندن بھارتی اٸیر فورس کا بندہ امن کے پرچم میں لپیٹ کے بھارت کو واپس کر دیا اور خود 92000 فوجیوں کو بھول گیے جو بھارتی قیدی تھے جھوٹ پر جھوٹ کتنے دن چلے گا ابھی جتنی مہنگائی اسمان کو چھو رہی ہے آنے والا وقت اس مہنگائی کو چار گناہ اضافہ کے ساتھ عوامی خدمت میں پیش کرے گا اور ہم مملکت پاکستان کو جھوٹ کی سطح پر بلند کرتے رہیں گے۔
سالانہ 3 ارب 20 کروڑ کا ادھار تیل سعودیہ دیگا اب بھی ادھار تو پھر اس مہنگاٸ اور ٹیکس پہ ٹیکس ہم پاکستانیوں سے کیوں جب تیل ادھار مل رہا ہے تو پیٹرول سستا ہونے کی کوٸ خبر کیوں نہیں اس بار کی حکومت دو چور حکومتوں کے بعد آئی لیکن چوری ڈکیتی حکومتی سطح پر دو چور حکومتوں سے زیادہ ہے تو پھر ادھار لو یا خیرات لو ڈیڑھ لاکھ روپے تو ایک پاکستانی پر ادھار ہے ہی اور جب قرض کسی مسلمان پہ ہو تو حج کیسا پھر تو ایک عام پاکستانی اسفند یار ولی محمود اچکزائی نواز شریف زرداری اور بانی ایم کیو ایم نے تو زبانی کہا سنا تھا آج تو تحریک انصاف کی حکومت وہی سب کچھ عملاً کرتی نظر آرہی ہے جو (میرے منہ میں خاک )ملک کے خلاف ہے عوام کو اکسایا جا رہا ہے۔
ہم جھوٹ پہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ اسراٸل اور امریکہ اپوزیشن کی جماعتوں کو سپورٹ کر رہا ہے اور اپوزیشن ملک کے خلاف کام کر رہی ہے اگر ایسا سچ ہے تو ریاست خاموش کیوں اور اگر ایسا نہیں تو ہم اب بھی جرنل ایوب سے لیکر نواز شریف حکومت کا جھوٹا بیانیہ دھرا رہے ہیں اور حکومت میں رہ کر اپوزیشن کو غدار وطن کہہ رہے ہیں ہم دنیا سے الگ رہنے کا تصور تک نہیں کر سکتے ہمارے سامنے ترکی کی مثال دینا کم عقلی ہے کہاں سلطنت عثمانیہ اور کہاں ہم بکھرے بکھرے سے ٹوٹے ٹوٹے سے USSR کا نظریہ ٹوٹا اور وہ خود بھی ٹوٹا ہم 14 اگست 1947 میں پاکستان بنے اور 14 دسمبر 1971 میں ہمارا جھوٹا نظریہ بھی جھوٹا ثابت ہوا اور ہم 56 فیصد سے محروم ہوگئے مگر جھوٹ ہم سے الگ نہ ہوا۔
آج کی حکومت اور اس جماعت کے ساتھ ہونے والے لوگوں کا نام بھی لکھنا بہت عجیب سا لگتا ہے وحشت ہوتی ہے اس پر ستم یہ کے زرداری اور نواز اپنی اپنی اولادوں کو لیڈر کے طور پر پیش کر رہے ہیں ستم پہ ستم کے لکھنے والے شہید بے نظیر اور مرحوم نوابزادہ نصراللہ کو یاد کر رکھتے ہیں مطلب ہم اب تک دو گھرانوں سے باہر نکلے ہی نہیں یہ دو سیاسی جماعتیں نہیں ہیں دو گھرانے ہیں عمران جیسے تو حادثاتی وزیر اعظم ہیں اور ایسے وزیراعظم کا مستقبل صفر نظر ارہا ہے 1971 کا پاکستان بغیر کسی نظریے کا پاکستان ہے ایک کہانی ہے جو اقتدار میں بیٹھ کے سنانی ہوتی ہے اور کہانی اور افسانے سچے کہاں ہوتے ہیں بس چہرہ بدل بدل کے آجاتے ہیں کبھی وردی میں کبھی سویلین تو نظریہ کہاں ہے اٹھارویں ترمیم نے تو مرکز کو کنگال تک کردیا ہے۔
اختیارات اب نہ ڈویژن ضلع یا تحصیل کے پاس ہیں اور نہ مرکز کے پاس بس پاورفل صوبہ ہے وہ جو اپ ڈالر کو روکنے کے لیے کوششیں کر رہے ہو تو ایسی حماقت نواز شریف کے 1998 والے دور حکومت میں ہوچکی ہے اور پاکستان کا مالی نقصان بھی خوب ہوا تھا مرے پہ سو دھرے کب تک اللہ میرے وطن کو محفوظ رکھے ورنہ کام تو کرنے والے پورا کر چکے ایٹمی طاقت ہم ہیں USSR کی طرح وہ دین کو نہیں مانتے تھے اور ہم دین کے ٹکڑوں ٹکڑوں کے ماننے والے فرقہ واریت اور لسانیت پہ جان نثار کرنے والے بس USSR خود کو بڑھانے میں پسا اور ہم جھوٹ کی چکی میں پسنے والے اپنے حکمرانوں کے ہاتھوں۔ مالی بحران کا حل مہنگاٸ نہیں ہوتا لوگ خودکشیاں کرنے لگینگے گیس بجلی کی قیمتیں اسمانوں کو چھو رہی ہیں دو دن اخبارات کی سرخی ڈالر مہنگا ہوگیا تھا اج 50 پیسہ سستا حد ہے حد تماشہ بھی خوب ہے جھوٹ یا منفی پروپگنڈہ جو کرتا ہے اسکا نقصان وہ خود اٹھاتا ہے بات یہاں فرد کی نہیں بات یہاں حکمرانوں کی ہے اور نقصان میرے ملک کا ہوتا ہے محسن داوڑ افغانی تھا اور وہ کہتا ہے کہ وہ اب بھی افغانی ہے تو قومی اسمبلی میں اسکا کیا کام ؟ ؟ ؟ کامران رضوی
