Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
فیڈ دا پور، صدقہ ایسے دیا کرو کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو پتہ بھی نہ چلے | زرائع نیوز

فیڈ دا پور، صدقہ ایسے دیا کرو کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو پتہ بھی نہ چلے

پاکستان میں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں لیکن پاکستان میں ایک عجیب سی بات دیکھنے میں آنے لگی ہے اور جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اس چیز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ میں بھی ایک مسلمان ہوں لیکن اتنی ہمت نہیں ہے کہ لوگوں کو روک کر بولوں کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔ ڈر لگتا ہے لوگ مجھے پاگل نہ کہنے لگیں یا پھر یہ کہ کر بات ختم ہی نہ کر دیں کہ آپ کون ہوتے ہو ہمارے معملات میں بولنے والے۔ اس وجہ سے میں نے سوچا ہے کہ آج سے میں اپنے خیالات کا اظہار اسی طرح لکھ کر کیا کروں گا۔

اسلام میں میں نے جو اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ صدقہ ایسے دیا کرو کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو پتہ بھی نہ چلے۔ لیکن یہ بات اب مجھے صرف کتابوں یا لوگوں کی باتوں میں نظر آتی ہے۔ حقیقت سے اس کا تو جیسے کوئی تعلق رہا ہی نہیں ہے۔ لوگوں میں غریب لوگوں کی مدد کرنے کا حوصلہ تو بہت ہے لیکن ساتھ ساتھ اس سے زیادہ اس مدد کے بدلے میں دیکھاوا بھی ہے اور جب سے سوشل میڈیا کا استعمال عام ہوا ہے لوگوں نے کسی کی مدد کر کے اس ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر ڈالنا لازمی سمجھ لیا ہے۔

کیا ہمارے مذہب نے ہمیں یہی سیکھایا ہے یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور ہی بات ہے جو ہم لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ شادمان ٹاون میں بھی ایک ایسی ہی آرگنائزیشن ہے جس کا نام فیڈ دا پور ہے۔ پہلا سوال تو یہ بنتا ہے کہ اگر اللہ نے آپ کو دوسروں سے زیادہ مال دے دیا ہے تو آپ اللہ کا شکر ادا کریں نہ کہ ایک ایسی کمپنی بنا ڈالیں جس سے دوسروں کی دل آزاری ہوں آپ کون ہوتے ہیں دوسروں کو غریب کہنے والے اور آپ کون ہوتے ہیں دوسروں کو فیڈ کرنے والے۔ پھر یہ کہ اسلام میں ہے کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے کو پتہ نہ چلے لیکن آپ نے تو ایک ویب سائیٹ اور فیس بک کا پیج ہی بنا ڈالا اور دوسرے ہاتھ تو دور پوری دنیا ہی کو بتانے لگے کہ ہم لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔

مجھے تو بس یہ سمجھ آیا ہے کہ آپ یہ سب دیکھا کر اللہ کے حکم کی نافرمانی کر رہے ہیں۔ یہ سب آپ باہر بیٹھے ایک غیر مذہب قوم کو خوش کرنے کہ لئے کر رہے ہیں تاکہ اپنے رب کی نافرمانی کے بدلے میں وہ آپ کو ایک اچھی خاصی رقم دے سکے جس سے آپ پہلے لوگوں کی سیلری نکالیں، پھر اپنے آفس کا خرچہ اور پھر جو بچ جائے وہ کسی کو دے دیں اور اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال کر خود حاجی بن جائیں۔