امریکہ بادشاہ نیازی خلدون ، تحریر کامران رضوی

سنا کرتے تھے کہ کسی کے گھر کابچہ گھر مں چوری کرتا تھا اپنے گھر میں تو اس بچہ کے والدین مسلہ ڈانٹ ڈپٹ کر مار پیٹ کر مسلہ حل کر لیتے تھے البتہ وہ بچہ لڑکا یا ادمی چوری گھر سے باہر کرتا تو بات تھانے کچھیری تک جاتی اج کل یہ چوری کی باتیں نیب تک چلی جاتی ہیں اور بات جیل تک پہنچتی ہے محلہ میں بدنامی الگ ہوتی ہے اور شریف لوگ ان چوروں سے دور رہتے تھے اب چلتے ہیں اپنے وزیرخآرجہ کی طرف جنھیں ایک گوری صحافی نے ایک بار نہیں بلکہ کئ بار کہہ کے شرم کرو تم (شیم اُن یو) اب تک تو ہم اپنے پاسپورٹ پر ہی گریہ زار تھے اب وزیر خارجہ پر بھی افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی تو نہ کسی لینے میں نہ دینے میں اس قدر خاموش وزیر خآرجہ جو اب تو وزیر خاموش بنا بیٹھا ہے انھیں کسی ایسی پریس کانفرنس کا بتایا ہی نہیں کریں جس میں گوری یا گورا صحافی موجود ہو ویسے اب تو جو وزرا وفاقی کابینہ میں موجود ہیں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو ہٹا کر اپ کسی کی بھی پریس کانفرنس کو اب رہنے ہی دیں فردوس عاشق اعوان تو گھریلو ٹوٹکے بتاتی ہیں اس لیے محفوظ ہیں ورنہ گورا گوری صحافت وہاں بھی ہوتی اور شرم کرو شر کرو کی اوازیں گھر گھر سنی اور دیکھی جاتیں کیونکہ اج کل کوئی ایک ماہ سے لوگ اپنے اپنے کاروبار سے فارغ ہوچکے ہیں ملازمتوں سے لوگ محروم کر دیے گےء تو اب تو بس چند دن جو بچے ہیں بجلی کے بل سے یہ سب ہیں اور ٹی وی چینلز ہیں خیر صاحب اب یہ تو روز کا معمول بن چکا ہے ہم پاکستانیوں کا اس میں کاروبار اور ملازمتوں میں زیادہ حصہ کراچی کا اسکے بعد فیصل اباد کا کراچی کا تو وہ حشر ہے جو اج بھی کسی متوسط گھرانے کا بڑا بیٹا یا بڑی بیٹی جیسے تیسے صاحب روزگار ہے اور گھر کے سارے بھای بہین ماں باپ انتظار میں رہتے ہیں کے کب وہ کمانے والا یا کمانے والی گھر لوٹیگا اور فرمائش اس سے کرنی ہے پھر فرمائش بھی کیوں ضد کر کے منگوائنگے اخر گھر کا بڑا بیٹا یا بیٹی ہے بس یہ ہی حال کراچی کا ہے اکلوتا کراچی اور باقی سب چھوٹے اماں ابا پاکستان کراچی مرے یا گھٹ گھٹ کے جیے پالنا تو اس پہ فرض ہے اور کراچی کا اپنا جو حال ہے وہ اب سب جانتے ہیں مگر ضد ہے کے اب تک تم ذندہ کیوں ہو اسے ذندگی کہتے ہیں اپ لوگ اب تو کراچی آئ سی یو میں ہے جسے صوبہ اور وفاق سے کوئ مالی مدد نہیں ملی لیکن ٹیکس جو پہلے سے کہیں زیادہ ہے وہ پورا ادا کرے۔

کراچی اسکی تاریخ بھی عجیب و غریب لکھی گئ یہ بات ٹھیک ہے کہ کوئی موصوف کلاچی بھی ہوتے تھے ابتدا سے بھی زرا پہلے لیکن وہ مائ کلاچی نہیں تھیں یہ محترم کلاچی میربحر تھے کراچی کے ساحل پہ لیکن یہاں عالم یہ ہے کے محترمہ بےنظیر بھٹو سے مائی کلاچی کہ نام سے ایک برج کا سنگ بنیاد رکھودیا آج کل امریکن قونصلیٹ کہاں ہے فوراً بتایا جاتا ہے وہ مائی کلاچی والے برج کے نیچے اب کر کیا سکتے ہیں ہمیں یا تو سچ سے دلچسپی نہیں رہی یا پھر سچ جھوٹ کا ہمیں کرنا کیا بس دو وقت کی روٹی عزت سے مل جاے بات ختم اسلامی تاریخ میں بھی ایک گڑ بڑ ہے۔

آپ سب نے خلدون کو تو پڑھا ہی ہوگا یہ موٹے موٹے اٹھ دس والیوم اور پھر الگ سے مقدمہ خلدون، اسی سے تاریخ لکھوائی گئی تھی وصال کے کوئی دو ڈھائی سو سال کے بعد اور سب سے مزیدار بات وہ بیچارہ خلدون تاریخ کا ادمی ہی نہیں تھا اسکی کوئی دلچسپی تاریخ میں تھی ہی نہیں وہ تو ماہر عمرانیات تھا۔

عمرانیات کا آدمی تھا مگر جو بادشاہ کا حکم وہ خلدون کا عمل اب جیسی بھی تاریخ اس تک پہنچی وہ ہم سب کے لیے پڑھنا ضروری ہے طبقات ابن سعد یہ بھی تاریخ آسلام ہے انکے ملازم نے یا کاتب نے تاریخ داں کا کام لگایا اور اپنے نام سے کتاب شایع کی گویا یہ سلسلہ اج کا نہیں ہمارا ماضی بھی سچ سے دور ہی رہا حال تو ہم سب کے سامنے ہے اور مستقبل میں ہم ماضی سے جڑنا شائد ایک فطری عمل ہے ایک بات ہم دوستوں میں اکثر کی جاتی تھی انسان کا مستقبل اسکے ماضی سے جڑا ہوتا ہے۔

آپ تھوڑی سی توجہ دیں میرے اوپر کے دونوں پیراگراف چوری غیر ضروری بولنا دوسروں کے سامنے وفاقی وزیر ہو کر بھی شرمندہ ہونا اور سچ کو چھپانے کے لیے نت نئے جتن کرنا جبکہ ایک اچھی بات جو سب جانتے ہیں کے سچ چھپتا نہیں نواز شریف اصف زرداری سمیت بہت سے لوگوں نے اپنی اپنی حکومتوں میں گھر میں چوری کی۔

گھر ریاست میں ہے ریاست کا ائین ہے قانون ہے اپ پگڑو اور سزا دو اتنی دیر کیوں زرداری کے مقدمات آج کے نہیں نواز شریف کے لندن فلیٹس اج کے نہیں بانی ایم کیو ایم پہ جو منی لانڈرنگ کا الزام اج لگا رئے ہیں وہ بھی اج کا نہیں ان سب کے دور حکومت میں اور بانی ایم کیو ایم جب جب حکومتوں میں شامل رہے اُس وقت میں جو جو لوگ بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز تھے زرا کچھ پوچھ گچھ ان سے بھی تو ہو کب تک برائیوں کی جڑ سیاست کو بتاتے رہینگے گھر کی بات ہے ہے اسے اتنا نہ بڑھایں کے پورا ملک ہی کرپشن زدا ہو جائے اس وقت سے ڈریں بلکہ اُسوقت کیا اج کی صورتحال کو سامنے رکھیں کے ایک چور ڈکیت نہیں ایک زانی آدمی جو دوسرے محلہ میں زنا کر کے ایا جس کے زنا سے ایک بچی بھی پیدا ہوئی اور آپ اسے اسی محلہ میں لے کے جارہے ہو، واہ واہ نواز شریف اصف زرداری یا الطاف حسین پر ایسا کوئی گھٹیا الزام تو نہیں آپ تو امریکی عدالت سے سزا پائے ہوئے مجرم کو امریکہ لے کے جارہے ہو لمحہ بھر کو سوچو اگر یہ مجرم وہاں کی پولس نے پکڑ لیا تو اپ کیا کروگے 22 جولائی تو سر پہ ہے امریکہ کی کون کون سی شرائط مانو گے یا اب سب طے شدہ ہے کہ امریکہ بادشاہ اور نیازی خلدون

اپنا تبصرہ بھیجیں: