Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
عمران فاروق قتل کیس ختم ہونے کے قریب، کب کیا ہوا؟ | زرائع نیوز

عمران فاروق قتل کیس ختم ہونے کے قریب، کب کیا ہوا؟

خصوصی رپورٹ: عمیر دبیر

لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے پہلے کنونیئر اور بانی ایم کیو ایم کے دیرینہ ساتھی ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 بروز جمعرات برطانیہ میں قتل کیا گیا، 8 برس گزر جانے کے باوجود اُن کے قاتلوں کو انجام تک نہیں پہنچایا جاسکا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010ء کو لندن کے علاقے ایج ویئر کی گرین لین میں ان کے گھر کے باہر قتل کیا گیا تھا۔

برطانوی پولیس نے دسمبر 2012ء میں اس کیس کی تحقیق و تفتیش کے لیے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے گھر اور لندن آفس پر بھی چھاپے مارے جس کے دوران وہاں سے پانچ لاکھ پاؤنڈز سے زائد رقم ملنے پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع ہوئی تھی۔

پاکستان میں اس کیس کا مقدمہ 15 دسمبر 2015ء کو سرکاری مدعیت میں درج کیا گیا ، جس میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین جبکہ رہنما محمد انور اور افتخار حسین کے علاوہ معظم علی خان، خالد شمیم، کاشف خان کامران اور سید محسن علی کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔

مقدمہ درج کرنے کی درخواست ایف آئی اے کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کے ڈائریکٹر انعام غنی نے دی تھی۔ مقدمے میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش اور قاتلوں کو مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے جبکہ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات 34، 109، 120بی، 302 اور 7 شامل کی گئی تھیں۔

جون 2015ء میں پاکستانی حساس اداروں نے عمران فاروق کے قتل کے دو ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کی چمن سے گرفتاری ظاہر کی تھی جبکہ معظم علی کو کراچی میں ایم کیو ایم کے سابق مرکز ‘نائن زیرو’ کے قریب ایک گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ملزمان کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے اپنی تحویل میں لے کر اسلام آباد منتقل کیا اور قتل کی تحقیقات کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا۔

خالد شمیم کی اہلیہ بینا خالد نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے شوہر کو  6 جنوری 2011 میں اُس وقت ملیر ہالٹ سوہنی سویٹ کے قریب سے گرفتار کیا گیا جب وہ بیٹے کو اسکول سے لے کر واپس گھر جارہے تھے اور اس دوران انہوں نے اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کے لیے گاڑی روکی۔

اُن کا کہنا ہے کہ خالد شمیم جو واٹربورڈ میں ڈویژنل اکاؤنٹ ٹینٹ کی ملازمت کرتے تھے انہیں 18 جون 2015 کو چمن باڈر کراس کرکے پاکستان غیر قانونی طریقہ سے آتے ہوئے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

عمران فاروق کے صاحبزادوں کی والد کی قبر پر حاضری

انہوں نے بات چیت کے دوران بتایا کہ خالد کو مقدمے میں سہولت کار کے طور پر پیش کیا گیا جبکہ معظم علی خان پر دو لڑکوں جو مبینہ قاتل بتائے جاتے ہیں محسن اور کاشف کو معاشی سہولت فراہم کرنے الزام میں گرفتار کیا گیا، جبکہ خالد شمیم محسن اور کاشف کو جانتے بھی نہیں ہیں۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ معظم علی نے مبینہ طور پر محسن اور کاشف کو لندن بھیجا اور اُن کے ویزے و دیگر سہولتوں کا انتظام کروایا۔

پاکستانی عدالت میں زیر سماعت مقدمے کی تفتیش میں تفتیشی افسران اور اداروں نے محسن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کاشف کے ساتھ موقع واردات پر موحود تھا جب کہ محسن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ اپنی ہڑھائی کے ساتھ مال میں پارٹ ٹائم ملازمت کررہا تھا، مصروفیات کے باعث اُس کے پاس وقت نہیں تھا۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رواں برس مارچ میں کیس کا فیصلہ سنایا تھا مگر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا، دسمبر 2018 میں مقدمے کو دائر ہوئے تین برس کا عرصہ بیت جائے گا۔

قانونی ماہرین اور ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمے کا فیصلہ آئندہ دو سے چار سماعتوں میں مکمل سنادیا جائے گا۔

واضح رہے کہ خالد شمیم کی دوران حراست ایک ویڈیو بھی سامنے آچکی ہے جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل بانی ایم کیو ایم کی سالگرہ کا تحفہ تھا۔

Image result for imran farooq
مقدمے کے ملزمان، معظم علی، کاشف اور خالد شمیم

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بینا خالد کا کہنا تھا کہ خالد شمیم نے کوئی اعتراف نہیں کیے بلکہ اُن کو سب لکھ کر دیا گیا اور وہ ویڈیو ریکارڈنگ کے وقت نیچے رکھے گئے پرچے کو دیکھ کر سب پڑھ رہے تھے۔

پاکستان کے دو نامور صحافیوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ محسن اور کاشف کو 2010 میں ہی کراچی ائیرپورٹ سے حراست میں لے لیا گیا تھا جس کے دوران اہم ملزم جس کے فنگر پرنٹس وار کرنے والی چھری سے میچ کر گئے وہ جاں بحق ہوگیا، اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کرتے۔

رواں برس جون میں برطانوی تفتیشی ادارے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی چیف کریسیڈا ڈک نے ہوم افیئرز سلیکٹ کمیٹی کے روبرو پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرایا تھا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ عمران فاروق قتل کے تانے بانے برطانیہ سے باہر جاتے ہیں، تفتیش آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کا تعاون درکار ہے جس کے لیے دونوں ممالک کو  مسائل حل کرنا ہوں گے۔

https://zaraye.com/mozzam-ali-wife-expose-psp/

اسکاٹ لینڈ یارڈ کی چیف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ برطانوی و پاکستانی دفترخارجہ ومتعلقہ حکام سے مل کر معاملہ پاکستان کے ساتھ اٹھا رہے ہیں، حکومتی سطح پر معاہدے کے بعد پیشرفت سامنے آسکتی ہے، عمران فاروق کیس پر بڑا خرچہ کیا ہے، قاتلوں کو ضرور پکڑیں گے۔

Image result for dr imran farooq
منظر عام پر آنے کے بعد ڈاکٹر عمران فاروق کی پریس کانفرنس

اسکاٹ لینڈ یارڈ نے عمران فاروق قتل کیس کی تفیتش کو فی الحال روک دیا ہے، برطانیہ میں مقیم صحافی نے اس بات کی تصدیق کی کہ قتل کیس کے منطقی انجام تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک کو ایک پیج پر آنا ہوگا، اسکاٹ لینڈ یارڈ گرفتار افراد سے ازسر نو تفتیش کرے گی۔

خیال رہے کہ جناح پور کے مبینہ نقشوں کی برآمدگی کے بعد جب 1992 میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کا آغاز ہوا تو ڈاکٹر عمران فاروق روپوش ہوگئے تھے جس کے بعد وہ 1998 کے آخر میں اچانک لندن سے منظر عام پر آئے۔

یہ بھی یاد رہے کہ مقتول کی روپوشی پر حکومت پاکستان نے 1993 میں اُن کی مفروری کے اشتہار جاری کرتے ہوئے انہیں انتہائی سنگین دہشت گرد قرار دیا تھا اور ساتھ ہی سر کی قیمت 8 لاکھ روپے مقرر کردی تھی۔

ڈاکٹر عمران فاروق نے لندن پہنچنے کے بعد ایم کیو ایم کی شمائلہ نامی کارکن سے پسند کی شادی کی جس کے بعد اُن کے ہاں دو بچوں علیشان اور وجدان کی پیدائش ہوئی، قتل کے وقت بچوں کی عمریں 5 اور 3 سال تھیں۔

شمائلہ عمران نے گزشتہ روز تعزیتی پیغام میں انکشاف کیا کہ انہوں نے شوہر کے بچھڑنے کے بعد کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزاری اور گزشتہ پانچ برس سے وہ بالکل اکیلی ہیں، سسرال والوں یعنی ڈاکٹر عمران فاروق کے گھر والوں نے بھی اُن کی کوئی خبر نہیں لی۔

کچھ افراد کا ماننا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق ’بی کیو ایم‘ کے نام سے اپنی علیحدہ جماعت بنانے چاہتے تھے اور انہیں 16 دسمبر 2018 کو اس حوالے سے خطاب بھی کرنا تھا، البتہ اس حوالے سے اُن کے قریبی ساتھی بھی انکاری ہیں۔

ڈاکٹر عمران فاروق کی برسی کو 8 برس کا عرصہ بیت گیا، کراچی کی سیاست پر نظر رکھنے والے افراد اور ایم کیو ایم کے کارکنان نے ان کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی اور درجات کی بلند ی کے لیے دعا بھی کی، ایم کیو ایم پاکستان اور لندن نے تعزیتی پروگراموں کا انعقاد بھی کیا۔

https://zaraye.com/dr-imran-farooq-wife-says-something/