اسرائیلی مظالم پر آواز اٹھانے والے گھر کے معاملے پر خاموش، تحریر نعیم نوازساحر

فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے احتجاج اچھی بات ہے اور آئینی حق بھی ہے مگر یہ بھی بتایا جائے کہ کیا پاکستان میں انسان نہیں رہتے کیا پاکستان میں رہنے والے مسلمان نہیں جنہیں ایک طرف سے طالبان و کالعدم جماعتں قتل کررہی ہیں۔

کراچی میں مخصوص مکاتب فکر کی ٹارگٹ کلنگ ، ہزارہ شیعہ کی نسل کشی پر خاموش رہنا خیبرپختونخواہ میں چن چن کر شیعہ پولیس افسران و اہلکاروں کا قتل کیا گیا پاکستان کے تمام بڑے شہروں کے پارک ھوٹل مساجد امام بارگاہ چرچ اسکول کالج و سرکاری دفاتر کو بم دھماکوں سے اڑایا گیا تو اُس وقت آپکی نے احتجاج کے لیے آواز کیوں نہیں نکالی۔

آپ اسرائیل کی ریاست کے جبر و مظالم کی بات کریں مگر اپنے ملک میں بلوچوں کے قتل عام نہیں اور ہزاروں لاپتا بلوچوں ، سندھی قوم پرستوں کی گمشدگی ، مہاجروں کے ماورائے عدالت قتل پر آواز کیوں نہ نکل سکی، کیا یہ لوگ انسان یا مسلمان نہیں؟

شائد آپ کی بھی ایک آنکھ ھے جو ہزاروں میل دور فلسطینیوں پر ھونے والے اسرائیل کے ظلم کو دیکھتی ھے مگر اپنے آس پاس ھونے والا ظلم  جبر و بربریت دکھائی نہیں دیتی آج بھی 70 کے قریب شیعہ لاپتا ھیں جنہیں اسرائیلی فوجیوں کیطرح کے طاقت ور لوگوں نے جبری اغواء کر رکھا ھے اس کے علاوہ ہزاروں بلوچ عورتیں اپنے پیاروں کی رہ تک رہی ہیں آج بھی مہاجر عورتیں اپنے لاپتا پیاروں کو یاد کرکے انصاف کے لیے اٹھا رہی ہیں۔

Displaying IMG_20170510_135303.jpg

جب عیسائیوں کو زندہ جلایا جاتا ھے احمدیوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ھے سکھ و ھندو برادری پر مظالم کیے جاتے ہیں تب آپ کی آواز کیوں نہیں نکلتی کیا آپ صرف فلسطین کے مظلوم عوام کو ہی انسان اور مسلمان سمجھتے ہیں ؟ کیا پاکستان کی متاثرہ نسلی لسانی و مذھبی اکائیاں نہیں؟ اگر مسلمان نہیں تو کیا انسان بھی نہیں ؟ پا پھر کہیں ایسا ایسا تو نہیں کہ فلسطین کے حق اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف احتجاج و علامتی بھوک ہڑتال کرنے سے آپ کی جیب گرم ھوتی ھے اور پاکستان کے مسلمانوں اور انسانوں کے لیے احتجاج کرنے سے آپکی جیبیں خالی ھوتی ہیں جو آپکو منظور نہیں

یہاں جو بھی لکھا گیا ھے پوری دیانتداری سچائی اور نیک نیتی کی بنیاد پر لکھا گیا اور سوال کیا گیا ھے ایک ایسی تنقید کی گئی ھے جسکا مقصد اصلاح ھے یا پھر اس طرف نظر کروانا ھے جسے آپ نے نظر انداز کیا ھوا ھم یہ سمجھتے ہیں مظلوم, مظلوم ہی ھوتا ھے خواہ وہ کسی بھی رنگ نسل زبان مذھب یا جغرافیہ سے تعلق رکھتا ھو سب کے لیے یکساں آواز اٹھائی جانی چاہیے خاص طور پر آپ کے اپنے ملک کے مسلمان اور انسانوں کا حق پہلے ھے اور زیادہ ھے تاکہ اپنے ملک کے مظلوم طبقات سے ھمدردی یکجہتی کرتے ھوئے ہوئے ہر قسم کے ظلم و جبر و استحصال کا خاتمہ کیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: