Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
علی رضا عابدی کے لندن میں‌ رابطے تھے، سیکیورٹی حکام، قتل کیس کی فائل بند کرنے کی کوشش | زرائع نیوز

علی رضا عابدی کے لندن میں‌ رابطے تھے، سیکیورٹی حکام، قتل کیس کی فائل بند کرنے کی کوشش

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی قتل کیس میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نیا دعویٰ کر کے تحقیقات کو نئی جانب موڑ دیا۔

سیکیورٹی اداروں نے علی رضا عابدی قتل کیس میں ایم کیو ایم کے محمود اآباد یوسی 6 سے منتخب ہونے والی یوسی چیئرمین خرم شہزاد سے 27 روز پوچھ گچھ کی۔

سیکیورٹی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ خرم شہزاد نے نئے نمبر کی سم خرید کر علی رضا عابدی کو دی جس کے ذریعے وہ لندن کی کچھ شخصیات سے رابطوں میں تھے۔

یو سی چیئرمین خرم شہزاد

خرم شہزاد نے دورانِ تفتیش بتایا کہ علی رضا عابدی نے کہا تھا میرے نام پر پہلے ہی سمیں نکلی ہوئی ہیں اس لیے نئی سم نہیں مل سکتی، میں نے شاہراہ فیصل پر ایک فرنچائز سے نئی سم خرید کر دی۔

لندن رہنماؤں سے رابطے کے حوالے سے سیکیورٹی حکام نے یوسی چیئرمین سے سوال کیا کہ علی رضا عابدی کیوں رابطے میں تھے جس پر وائس چیئرمین نے انہیں آگاہ کیا کہ یہ بات اُس کے علم میں نہیں ہے۔

سیکورٹی حکام علی رضا عابدی آخری دنوں میں لندن کی کچھ شخصیات سے رابطےمیں تھے، علی رضا عابدی کے بیرون ملک رابطوں پر سیکورٹی اداروں کو اہم معلومات مل بھی گئی۔

کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ؟

کراچی:علی رضا عابدی قتل کیس کی فائل بند کرنے کی کوششیں، قتل کیس میں گرفتار کیے گئے ملزمان کے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، چاروں ملزمان اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث تھے جنہیں قاتل ظاہر کیا گیا۔

کیس کی تفتیش کرنے والے اہم ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ علی رضا عابدی کے قتل میں ملوث شوٹنگ پارٹی گرفتار نہ ہوسکی اور نہ ہی تاحال اسلحہ برآمد ہوسکا، مصطفیٰ ، فیضان اور حسنین قتل کے مرکزی کردار قرار دیا گیا جبکہ ان تینوں ملزمان سے سی ٹی ڈی نے کوئی تفتیش بھی نہیں کی۔