#تکون_کی_چوتھی_جہت : تین کرداروں کے گرد گھومتی مایوس کہانی، جس میں محبت جیت گئی

تکون کی چوتھی جہت (ناولٹ) کا تازہ شمارہ ہاتھ لگا جس کا سرورق تو خوبصورت ہے ہی مگر اُس کے انتساب میں لکھے ہوئے الفاظ اُس سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں۔

افسانوی ناول کی اگر بات کی جائے تو اسے سرورق ، انتساب کی بنیاد پر ہی کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے مگر مطالعے کا شوق رکھنے والے مصنف کی مہارت کو دیکھنا چاہتے ہیں جس پر اقبال خورشید مکمل طریقے سے اترتے نظر آئے۔

تکون کی چوتھی جہت پر مختصر نظر

ناوٹ کے ابتدا میں ہی نامور افسانہ نگار مستنصر حسین تارڑ کی قیمتی رائے درج ہے جس میں انہوں نے مصنف کو مستقبل کا کامیاب لکھاری قرار دیا مگر ساتھ میں دو ٹوک الفاظ یہ بھی تحریر کیے کہ اگر اقبال خورشید لکھتے رہے تب ہی یہ ممکن ہوگا۔

چار سطروں پر مشتمل انتساب میں چند ہی الفاظ ہیں مگر یہ اُن میں امید کی ایسی کرن ہے کہ پڑھنے والے کی توجہ مکمل طور پر اپنی جانب مبذول کروالیتے ہیں۔

کہانی / کردار

تکون کی چوتھی جہت کی کہانی تین لوگوں کے گرد گھومتی ہے، جن میں دو مرکزی کردار احمر اور مریم ہیں، ان دونوں کے گرد گھومنے والی کہانی میں کہیں کہیں مایوسی کے اثرات محسوس ہوتے دکھائی دیے مگر اس کا اختتام محبت پر ہوا جس نے مایوسی کے پردے کو چیر کر امید کا چراغ روشن کیا۔

مریم ، احمر ایک یونیورسٹی کے طالب علم تھے، جن کے درمیان محبت کا رشتہ اُس وقت قائم ہوا جب مریم کے والدین کا انتقال ہوگیا، مریم کے آنسوؤں اور درد کو احمر اس لیے سمجھا کیونکہ وہ بھی بچپن میں ایسے ہی ایک سانحے سے دوچار ہوا تھا۔ درمیانی حصے میں کہانی دلچسپ اُس وقت ہوئی کہ جب دونوں بیٹھے اپنے یونیورسٹی کے اسائمنٹ مکمل کررہے تھے اور اچانک لڑکی کے والدین کے روڈ ایکسڈینٹ کی اطلاع موصول ہوئی۔

احمر مریم کو لے کر اسپتال گیا، والدین کے گزرنے کی خبر سُن کر مریم کو اُسی کا کاندھا ملا، نمکین آنسو اُس کی آنکھوں سے نکل کر رخسار گیلے کرتے ہوئے علی کی شرٹ پر گرے اور انہوں نے دونوں میں ایک ربط قائم کیا مگر ابھی اظہار نہیں ہوا تھا، یونیورسٹی میں ایک روز موسم سہانہ تھا دوسرا کردار گلدستہ لے کر جامعہ آیا اور آج اُس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ مریم سے کھل کر اپنی محبت کا اظہار کرے گا مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا کیونکہ اُس سے چند قدم دور احمر تھا جسے دیکھ کر مریم سے رہا نہ گیا اور پھر محبت کی کہانی کا آغاز ہوا جس میں شادی اور پھر ایک اولاد بھی پیدا ہوئی۔

احمر نے ایک غیر ملکی کمپنی میں ملازمت کی جن کے ملازمین کو جنگ جو اغوا کر کے اپنے مطالبات منواتے تھے، یہاں جنگجوؤں میں وہ لڑکا بھی شامل تھا جو مریم کو پسند کرتا تھا، اغوا کے وقت مریم حاملہ تھی اور بازیابی سے قبل ہی اُس کے گھر لڑکے کی پیدائش ہوئی۔ کہانی کا ایک کردار علی بھی ہے جس نے احمر کی غیر موجودگی میں مریم کا ساتھ دیا، اُس کی معاشی اور گھریلو ضروریات پوری کیں۔

احمر کا پرس جنگجو نے اپنے پاس رکھا اور جب اُس نے اسے کھولا تو مریم کی تصویر نظر آئی، یہاں سے کہانی مزید دلچسپ ہوئی اور پھر وہی محاورہ ’جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے‘ سچ ثابت ہوا۔

کہانی کا اہم موڑ

مریم کی محبت کسی اور کے ساتھ دیکھ کر وہاں سے ناکامی لے کر لوٹنے والا نوجوان جنگ جو بنا، جسے اپنے آباؤ اجداد اور خاندان کا بدلہ لینا تھا، ایسے گٹھن زدہ ماحول میں رہنے کے باوجود اُس میں محبت کا دیا کہیں نہ کہیں جلتا رہا جس کی وجہ سے اُس نے احمر کو زندہ چھوڑا اور اپنے ہی ساتھی کو قتل کیا۔

میری رائے

مصنف اپنے افسانے میں کہیں کہیں جانبدار نظر آتا ہے مگر اقبال خورشید نے بہت ہی دلچسپ انداز سے اس کہانی کو بڑھایا اور کہیں پر بھی اس چیز کو غالب آنے نہیں دیا، شاید جب یہ کیفیت طاری ہورہی تھی تو انہوں نے چیونٹی کا ذکر شامل کردیا، اس افسانے میں چیونٹی کا کردار بھی ہمت اور  عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

ناولٹ میں مجموعی طور پر دو افسانوی کہانیاں ہیں جس میں سے ایک گرد کا طوفان ہے، دوسرے افسانے پر رائے یا ریوو جلد آپ کی نظر ہوگا۔ البتہ میرا ذاتی مشورہ ہے کہ قارئین اس ناولٹ کو ضرور پڑھیں کیونکہ اس میں منفرد انداز سے جو کہانی بیان کی گئی وہ آپ کے زندگیوں میں ہمت دلانے کے کام آسکتی ہے۔

اپنے بارے میں انکشاف

وقت کی قلت اور بہت زیادہ مصروفیات کی وجہ سے میں ویسے تو مطالعے کا چور ہوں مگر کل جب انتساب پڑھا تو پورا ناولٹ ایک ہی روز میں پڑھ ڈالا اس کی وجہ بوجھ یا جلدی ختم کرنا نہیں بلکہ ہر صفحہ کاغذ گھمانے یا مزید کہانی کو پڑھنے کی جستجو بڑھاتا ہے۔ ہر لائن میں کہانی اور کردار مزید نکھر کر سامنے آتے ہیں جس کی وجہ سے آخر تک ایک تسلسل بندھا رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: