کراچی کی اہمیت پر خاص تحریر

کراچی ملک کا تجارتی ،کاروباری صنعتی اقتصادی اور سماجی مرکز  کراچی ہرعلاقے ،زبان ، قومیت اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا مسکن ہے  ملک کا سب سے بڑا شہر ہے آبادی دو کروڑ کے لگ بھگ ہے دنیا کے 44 ملکوں سے بڑا شہر ہے اس کی اپنی دو بندرگاہیں ،ائیرپورٹ، آئل ریفائنریاں ،ریلوے اسٹیشن ،اسٹیل مل ،سیمنٹ فیکٹریاں ،انڈسٹریل ایریاز ،ساحل سمندر پر ہونے کی وجہ سے بہترین خوشگوار موسم ،فائیو ا سٹار ہوٹلز ،فوڈ کورٹس ،بے شمار تفریحی سہولتیں ،بڑے بڑے خوبصورت پارکس ،مساجد، اقلیتی برادری کی عبادت گاہیں ،کھیلوں کے میدان ،جدید اسٹیڈیمز ،گولف کورسز ،میوزیم ،چڑیا گھر ،برگزیدہ شخصیات کے مزارات ،اعلی معیار کی درسگاہیں ،جدید ترین سہولتوں سے آراستہ اسپتال ،قابل ڈاکٹر ،انتہائی ذہین پروفیشنلز اور مختلف قسم کے سوشل کلبز موجود ہیں۔

یہاں امیر غریب مڈل کلاس ہر طبقے کے لوگ خوشی خوشی زندگی گزار رہے ہیں ،اسٹاک مارکیٹ ہے گاڑیاں بنانے والی فیکٹریاں ہیں مرکزی اسٹیٹ بینک سمیت مختلف بینکوں کے ہیڈ آفس ہیں تاریخی ثقافتی ورثہ ہے اور جدید شہری انفراسٹرکچر موجود ہے بانی پاکستان کا محمد علی جناح کا گھر اور مزار ہیں ملک کی سب سے بلند ترین اور خوبصورت عمارتیں اسی شہر میں ہیں مواصلات کے تمام جدید نیٹورکس دستیاب ہیں خوبصورت جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ ہے سٹی سٹیشن اور کینٹ ریلوے اسٹیشن سمیت متعدد ریلوے اسٹیشن ہیں شہر سے ملک بھر آنے جانے کے لیے بسوں ویگنوں کے اڈے اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں ہیں سب سے بڑی روزگار فراہم کرنے والی مارکیٹ ہے یہ شہر ہر لحاظ سے روزگار کمانے کا ذریعہ اور بہترین زندگی گزارنے کا باعث ہے۔

کراچی میں دنیا کی کئی سرکردہ کمپنیوں کے دفاتر فیکٹریاں اور مصنوعات کی موجودگی اور خدمات کی فراہمی اس کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ٹیکسٹائل سے لیکر گاڑیاں بنانے تک مختلف شعبوں میں انجینئرنگ کی مہارت اور کمال یہاں پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کے لیے پرکشش سرمایہ کاری پالیسی اور آسان انداز سے بزنس کرنے کے اقدامات حکومتی سطح پر یقینی بنائے گئے ہیں یہ شہر منافع کمانے کے لئے سرمایہ کاروں کو بہترین مواقع فراہم کرتا ہے اور یہاں سرمایہ کاری کرنے والے اپنا منافع باآسانی ملک سے باہر بھی منتقل کر سکتے ہیں اس حوالے سے قانون سازی کی گئی ہے اور سرمایہ کاروں کی رغبت  اور کشش موجود ہے ۔ کراچی کی بندرگاہ سے ایشیا یورپ افریقہ امریکہ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں ٹریڈنگ گیٹ وے کی تاریخی  حیثیت ہے ۔ ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرون ملک سے آنے والا تیل اور خام مال کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر آتا ہے اور یہیں سے ایکسپورٹ آئٹمز دنیا بھر میں بھیجی جاتی ہیں۔

پاکستان کسٹم اور انکم ٹیکس اور سول ایوی ایشن  جیسے نمایاں ادارے یہاں پر سرگرم عمل ہیں ،میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی ،پاکستان کوسٹ گارڈز ،اینٹی نارکوٹکس فورس ،پاکستان رینجرز ،سندھ پولیس ،فرنٹیر کانسٹیبلری سمیت مختلف سیکورٹی اور حساس ادارے اپنے فرائض تندہی سے انجام دے رہے ہیں پاکستان آرمی نیوی اور ایئر فورس کی موجودگی شہر میں ہر طرح کے تحفظ کا احساس دلاتی ہے کراچی میں بہترین ایکسپو سینٹر ہے جہاں سارا سال مختلف شعبوں کی ایکسپو ز  شاندار اور کامیاب انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے ۔کراچی میڈیا انڈسٹری کا بھی مرکز ہے ملک کے بڑے میڈیا ہاؤسز اخبارات ٹی وی چینلز ریڈیو پاکستان اور ایف ایم ریڈیو چینلز کے متعدد دفاتر یہاں واقع ہیں کراچی فن و ادب کا گہوارہ ہے۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی،ناپا  اور دیگر متعدد پرفارمنگ آرٹس کے مراکز موجود ہیں ،شہر میں کئ مشہور آرٹ گیلریاں ہیں ، کراچی شہر سرگرمیوں کا مرکز ہے دور حاضر کی مشہور فلمیں ڈرامے اس شہر میں تیار کیے جاتے ہیں یہ شہر مشہور شخصیات جن میں بین الاقوامی شہرت یافتہ کھلاڑی فنکار گلوکار دانشور سمیت مشہور شخصیات کا مسکن ہے ،شہر میں مختلف ملکوں کے قونصل خانے اور سفارت کا مقیم ہیں، شہر کو ہتھیاروں اور دہشت گردوں سے پاک کر کے امن کا گہوارہ بنا دیا گیا ہے اور روشنیوں کے شہر کی اصل رونقیں بحال ہوچکی ہیں یہ شہر اب پہلے کی طرح راتوں میں جاگتا ہے مسکراتا ہے یہاں پر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری  میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے سرکاری اور نجی شعبے میں نئے رہائشی اور کمرشل منصوبے شروع کیے گئے ہیں جو تیزی سے کامیابی کے ساتھ آگے بڑھے ہیں منصوبوں میں دلچسپی لینے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے شہر میں بنائی جانے والی کثیر المنزلہ عمارتوں میں رہائشی اور کمرشل پروجیکٹس کی مقبولیت اپنے عروج پر ہے شہر میں متعدد انٹرنیشنل ایونٹ کا کامیابی سے انعقاد عمل میں لایا جا چکا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں اب تک منعقد ہونے والے مختلف یونٹس میں نامور مشہور شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے شہر پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے یہاں پر پی ایس ایل کرکٹ ٹورنامنٹ کے اہم میچ کھیلے گئے گولف اسکواش کشتی رانی سمیت مختلف کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلے ہوئے جن میں نامور کھلاڑیوں نے شرکت کی فٹبال باکسنگ ہاکی سائیکلنگ میں مختلف کھیلوں کے مقابلے سارا سال جاری رہتے ہیں درحقیقت کراچی نے بھی دنیا کے دیگر ملکوں کے بڑے شہروں کی طرح اچھے برے حالات کا سامنا کیا ہے اور فنانشل مارکیٹ میں تو اچھے برے دن آتے رہتے ہیں لیکن 2008 میں اسٹاک مارکیٹ نے جن سختیوں کا سامنا کیا تھا اس کے بعد آنے والے سالوں میں بہت اچھے دن بھی دیکھے ہیں کراچی کی پراپرٹی مارکیٹ نے بعض عدالتی احکامات اور پابندیوں کی وجہ سے دو سال سے زائد عرصہ مشکلات سے گزارہ اس دوران یوٹیلیٹی اداروں خصوصاً واٹر بورڈ اور کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے کثیرالمنزلہ منصوبوں کو این او سی کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہا لیکن اب ان مسائل پر قابو پایا جا چکا ہے اور کراچی میں بحریہ آئیکون کے نام سے ملک کی سب سے اونچی عمارت کی تعمیر تقریباً مکمل ہوچکی ہے جبکہ سپر ہائی وے پر بحریہ ٹاؤن اپنے عدالتی معاملات سے نمٹے چکا ہے ڈی ایچ اے سٹی اور فضائیہ ہاؤسنگ سوسائٹی جیسے بڑے عالیشان منصوبوں پر کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ملک اور بیرون ملک سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے کراچی کی پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی ہے بحریہ ٹاؤن میں بڑی تعداد میں لوگ رہائش پذیر ہوچکے ہیں اسے صحیح معنوں میں 21ویں صدی کا کراچی کہا جا سکتا ہے جہاں پرسکون پرآسائش اور انتہائی محفوظ ماحول میں زندگی رواں دواں ہیں اسی طرح نیا ناظم آباد اے ایس ایف ہاؤسنگ منصوبہ ایم ڈی اے تیسر ٹاؤن سمیت آباد ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کے مشہور تجربہ کار میمبرز بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کی جانب سے شہر بھر میں متعدد تعمیراتی رہائشی اور کمرشل منصوبے اپنی مثال آپ نظرآتے ہیں جنہوں نے شہر کی رونقوں کو اور خوبصورتی میں اضافہ بھی کیا ہے اور رہائشی اور کمرشل ضروریات کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر نمایاں خدمات بھی انجام دیں ہیں۔

حالیہ برسوں میں کراچی کی پراپرٹی مارکیٹ میں زبردست ترقی ہوئی ہے اور اس شعبے میں سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد کراچی ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں ملک اور بیرون ملک سے لوگوں کی دلچسپی کا مظہر ہے شہر بھر میں پراپرٹی ڈویلپمنٹ کا کام اپنے عروج کی طرف گامزن ہے شہر میں رہائشی اور کمرشل منصوبوں میں تیزی آنے کی وجہ سے سریا سیمنٹ اور دیگر تعمیراتی سامان سے وابستہ شعبوں میں سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور یہ  سرمایہ کاری کے لیے موزوں ترین اور منافع بخش شعبہ ہے ۔ سرمایہ کاری کے بہترین مواقع دستیاب ہیں کراچی کے پراپرٹی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے یہ دس برس کے دوران اچھے برے حالات کے باوجود 75 فیصد سے 120 فیصد تک منافع حاصل کیا ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے البتہ اب یہاں پر حکومت نے ٹیکسوں کی وصولی کے نظام کو قدرے مناسب بنانے کے لئے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں جن کے باعث قانون کے مطابق سرمایہ کاری اور منافع حاصل کرنے کے خواہشمند قانون پسند شہریوں اور غیر ملکی باشندوں کے لیے زیادہ محفوظ ٹرانزیکشنز اور سرمایہ کاری کے مواقع دستیاب ہوں گے اور دستاویزی طریقہ کار آسان بنایا جارہا ہے لوگوں کو ٹیکسوں کے دائرہ کار میں لایا جارہا ہے اور ان کے لئے اس عمل اور ماحول کو پرکشش بنایا جارہا ہے۔

دبئی میں بھی دس برس کے دوران سو فیصد تک ریٹر ن کمایا گیا لیکن اب دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ نئے خطرات سے دوچار بتائی جاتی ہے اور دبئی میں سارا دارومدار ایکسپو 2020 کی بھرپور کامیابی پر ہوگا اگر ایکسپورٹ توقع کے مطابق کامیابی حاصل نہ کر سکی تو دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ انویسٹمنٹ سمیت دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کو خوفناک جھٹکا لگنے کا خدشہ ہے ۔  ان حالات میں ریجن میں کراچی ہی پراپرٹی انویسٹمنٹ کی سب سے اہم اور محفوظ مارکیٹ تصور کی جارہی ہے اور سرمایہ کار اس پر بھرپور توجہ مرکوز کیے بیٹھے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: