کراچی کے شہری سہولیات کی فراہمی کے ادارے آج جن گو ناگوں مسائل کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجہ مالی وسائل کی کمی کے ساتھ گڈ گورننس کے بجائے بیڈ گورننس بھی ہے جو ایڈہاک ازم کی بنیاد پر چلائے جارہے ہیں جس کی واضح اور زندہ مثال بلدیہ عظمیٰ کراچی، ادارہ ترقیات کراچی، کالعدم کراچی بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ہے۔
سال 2010ء میں شہری حکومت کے خاتمہ کے بعد سال 2016ء تک بلدیہ عظمیٰ کراچی بغیر کسی میئر اور ناظم کے ایڈمنسٹریٹروں جو عارضی طور پر تعینات کئے گئے تھے کام کرتی رہی۔ یہی صورتحال ادارہ ترقیات کراچی (کے ڈی اے) کو درپیش رہی 2016ء میں ایک نوٹیفیکیشن کے تحت جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسے اس کی اصل حیثیت جو 2002ء سے قبل کی تھی (شہری حکومت کے قیام سے قبل) بحال کیا جارہا ہے لیکن اس کے برعکس وہ محکمہ جات جو اس کے پاس تھے چھین لئے گئے جو مالی وسائل کی فراہمی کا اہم ذریعہ تھے/ ہیں یہی نہیں ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے جو انتظامی امور کا سربراہ ہوتا ہے یکے بعد دیگرے تبدیل ہوتے رہے گزشتہ تین سال میں ناصر عباس، سمیع الدین صدیقی، منصور عباس اور عبدالقدیر منگی کے بعد موجودہ پانچویں ڈی جی ڈاکٹر بدر جمیل میندھرو ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال میں کوئی بھی ڈی جی جب عہدہ سنبھالتے ہی اس کے سر پر تبادلے کی تلوار لٹکنی شروع ہوجائے۔
ادارے کی بہتری کے لئے کیسے کوئی پالیسی بناسکتا ہے۔ اگر بنا بھی لے تو اس پر عملدرآمد کیسے ممکن ہوگا۔ نتیجتاً ادارہ ترقی کے بجائے تنزلی کا شکار ہی رہے گا لہٰذا ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے کراچی دشمن عناصر سرگرم ہوجاتے ہیں وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے ادارے کے افسران کو بلیک میل کرنا شروع کردیتے ہیں حتیٰ کہ ان کی ذاتی زندگی کو اجیرن بنانے سے بھی بعض نہیں آتے جس کے نتیجہ میں افسران سخت ذہنی اذیت سے دوچار رہتے ہیں کے ڈی اے کا کوئی بھی ڈائریکٹر جنرل ایسا نہیں بچا جس پر کیچڑ نہ اچھالی گئی ہو یہ صورتحال دیکھتے ہوئے منصور عباس جنہیں اپنے عہدے کا چارج سنبھالے ہوئے ہفتہ ہی ہوا تھا کہ وہ پریشان ہوکر اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ اہم عہدہ چھوڑنے میں ہی ان کی عافیت ہے ڈاکٹر بدر جمیل میندھرو کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالے ابھی ایک مہینہ ہی ہوا ہے کہ ان کے خلاف یہ پیشہ ور عناصر متحرک ہوچکے ہیں حالانکہ وہ ادارے کے ملازمین کی فلاح و بہبود اور کے ڈی اے کی ترقی کے لئے فعالانہ کردار ادا کرنے میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں جو کراچی اور ادارے کے دشمن افراد کو ایک آنکھ نہیں بھارہی کسی بھی ادارے کی مثبت کارکردگی کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے سلسلے میں اس کے میڈیا کا اہم کردار ہوتا ہے لہٰذا ان دشمن افرادکا پہلا وار ہمیشہ اس کے میڈیا پر ہوتا ہے تاکہ ادارے کے روشن پہلو کو تاریک پہلو میں تبدیل کردیا جائے ادارہ ترقیات کراچی ان پیشہ ور عناصر کا خصوصی نشانہ ہے جو اس ادارے اور اس کے ملازمین کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ کے ڈی اے انتظامیہ کو بدنام کرنے کے لئے اور عوام میں منفی تاثر پیدا کرنے کے لئے تین روز قبل ایک شوشہ چھوڑا گیا کہ کے ڈی اے انتظامیہ نے سوک سینٹر میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے ۔
اس کے فوراً بعد ہی بعض بلیک میلروں کی جانب سے مذمتی بیانات کا آغاز واٹس اپ پر شروع کردیا گیا حالانکہ یہ ایک من گھڑت جھوٹی خبر تھی جبکہ ادارے کے ملازمین بھی سخت حیران تھے اور صحافی بھی کیونکہ وہ خود بھی سوک سینٹر میں مسلسل آ اور جارہے تھے ان پیشہ ور شرپسند عناصر میں ایسے افراد شامل ہیں جنہوں نے جعلی طور پر اخبارات اور سماجی تنظیموں کا سہارا لیا ہوا ہے تاکہ بلیک میلنگ میں آسانی رہے جبکہ نہ انہیں لکھنا بھی نہیں آتا اور تعلیم بھی صرف واجبی ہے میڈیا کو آرڈی نیٹر کو کہتے ہیں کہ میٹرک پاس ہے جبکہ خود نے کبھی کالج کی بھی شکل نہیں دیکھی لیکن بڑے فخر سے اپنے آپ کو صحافی کہتے ہیں، بڑے ٹھاٹھ باٹھ سے زندگی گزارتے اور چھیلا بنے پھرتے ہیں جبکہ پیشہ ور صائب کردار صحافی نہایت تنگدستی کی زندگی گزارتا ہے اور اپنی عزت کا بھرم رکھتا ہے ان پیشہ ور کے ڈی اے دشمن عناصر کو نہ تو ”کے الیکٹرک“ نہ ہی ”کالعدم کے بی سی اے موجودہ ”ایس بی سی اے“ نہ ہی ”کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ“ نہ ہی ”بلدیہ عظمیٰ کراچی“ نہ ہی ”سوئی سدرن گیس کمپنی“ اور نہ ہی ”حکومت سندھ“ کے اداروں میں کرپشن نظر آتی ہے یا پھر ان کی ہمت نہیں کہ انہیں بلیک میل کریں یہ پیشہ ور عناصر ہر تھوڑے عرصہ بعد ایک افسر کو ٹارگٹ کرکہ اس پر اپنی کارروائی ڈالتے ہیں جب وہ قابو نہیں آتا تو مہینوں اس کے خلاف یہ سلسلہ جاری رکھتے ہیں اصل صحافی وہ ہوتا ہے جس کی خبر پر ایکشن ہوتا ہے اگر نہ ہو تو وہ کروانا جانتا ہے وہ صحافی نہیں بلیک میلر ہوتا ہے جو لگاتار ایک ہی الزام اور ایک ہی خبر مہینوں تک چھپواتا رہے ایسے جعلی افراد صحافت کا لبادہ اوڑھ کر اصل صحافیوں کو بدنام کرتے ہیں یہ لوگ شرم و حیا اور عزت نفس سے عاری ہیں۔ ڈھٹائی اور فراڈ ان کا زیور ہے صحافی کا کام بے ضابطگیوں اور ان کے ذمہ داروں کو منظر عام پر لانا ہے ناکہ کسی شخصیت کو داغدار کرنا وہ بھی اپنے مذموم مقاصد کے لئے۔
جاہل کو گر اس کی جہل کا انعام دیا جائے
تو اسے حادثہ وقت کا نام دیا جائے
مہہ خانہ کی توہین تو رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
