جون ایلیا کی دیرینہ خواہش مرنے کے بعد پوری ہوئی

جون ایلیا کا تعارف عام قاری یا نوجوان نسل کے سامنے بطور شاعر ہوا جبکہ وہ جتنے خوبصورت شاعر تھے اُس سے کہی زیادہ فلسفی تھے، انہوں نے تقریباً ہر ہی میدان میں اپنا لوہا منوایا۔بھارت کے علاقے امروہہ کے ادبی گھرانے میں پیدا ہونے والے جون کے بڑے بھائی رئیس امروہی بھی بہت ہی شاندار شاعر تھے البتہ جون نے ادبی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا اپنے دم پر منوایا۔

جون کے صحبت میں رہنے والے ویسے تو بہت سے لوگ ہیں جن سے مختلف وقتوں میں ملاقات رہی۔ اُن میں ایک معروف شاعر انور شعور، دوسرے قیصر وجدی اور تیسرے عارف عزیز ہیں جن سے جون کی باتیں سنیں اور اُن سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کی۔

تمام ہی لوگ اور دیگر شعرا بھی اس بات پر متفق ہیں کہ جون روایت شکن اور باغی شاعر تھے، انہوں نے نثر نگاری اور غزل کو ایک نئے انداز سے پیش کیا جو آئندہ کئی برسوں تک نوجوان اپنائے رکھیں گے۔

جون پر اگر لکھنے بیٹھا جائے تو اُن کے ساتھ رفقاء کی ہونے والی تقریباً ہر محفل پر ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے مگر قارئین کی دلچسپی کو رکھتے ہوئے اُن کی وہ خواہش بتانا مقصود ہے وہ یہ تھی کہ جون کی خواہش تھی کہ جب وہ دنیا سے گزر جائیں تو انہیں یاد رکھا جائے۔

جون کی خواہش تھی کہ دنیا سے گزر جانے کے بعد اُن کا تذکرہ ہو یعنی نام زندہ رہے

میں سمجھتا ہوں کہ جس وقت جون کے دل میں یہ خواہش جاگی ہوگی اُسی وقت رب نے فرشتوں کو گواہ بناکر اسے قبول کرلیا ہوگا یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ نوجوان نسل میں مشہور سے مزید مشہور ہوتے جارہے ہیں۔ جون کی زندگی میں اُن کا ایک ہی مجموعہ شائع ہوسکا البتہ انتقال کے بعد اُن کے دوستوں نے اس کام کو بخوبی انجام دیا اور ہم تک جون کا وہ کلام پہنچایا جسے کسی بھی شاعر نے اس انداز سے نہ کیا ہو۔ عام طور پر جون کے رفقا آپ کو اُن کے بارے میں ساری باتیں بتاتے ہیں مگر یہ ضروری ہے کہ جو سبق آموز ہوں انہیں رکھ لیا جائے۔

آٹھ نومبر 2002 ایک ایسا دن تھا کہ جب جون طویل علالت کے بعد دنیا سے رخصت ہوئے، اُن کا اصل نام سید اصغر تھا اور یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ جون شاعر سے پہلے اسٹیج آرٹسٹ تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: