کرونا وائرس، ایم کیو ایم نے عوام کو امداد فراہم کرنے کا اعلان کردیا

کرونا وائرس، ایم کیو ایم نے عوام کو امداد فراہم کرنے کا اعلان کردیا

بلدیاتی نمائندے ایک ماہ کی تنخواہ دیں گے

ایک لاکھ سینیٹائزر عوام میں تقسیم کیے جائیں گے

کے کے ایف کی عمارتیں آئسولیشن وارڈ کے لیے دینے کو تیار ہیں

فلاحی اور رفاعی اداروں کے لیے کارکنان کی خدمات پیش کرتے ہیں

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان نے کرونا وائرس کے پیش نظر پیدا ہونے والی صورت حال میں عوام کو امداد فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور شہریوں سے تعاون کی اپیل کردی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم پاکستان موجودہ صورتحال میں تنظیمی سرگرمیوں سے اجتناب برت رہی ہے، ایم کیوایم کے تمام نمائندے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کرونا وائرس کے فنڈ میں دیں گے اور ہم عوام میں ایک لاکھ سینیٹائزر تقسیم کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کے کے ایف پر تمام فنڈز کی پابندی کے باوجود کرونا کی پرائمری اسکریننگ کرنے کیلئے کیمپ لگادیا گیا ہے، تمام یوسی چیئرمین کو ہدایت کی ہے کہ سینیٹائزر اور صابن عوام میں تقسیم کریں، کے ایم سی, ڈی ایم سی اور کے کے ایف میں آئیسولیشن وارڈ وائم کرنے کیلئے اپنی تمام عمارتیں دینے کو تیار ہیں، ہم نے کرونا وائرس سے متعلق آگئی مہم چلانے کی تمام تر تیاری مکمل کرلی جسے جلد شروع کیا جائے گا۔

خالد مقبول صدیقی کا کہان تھا کہ رفاحیُ اداروں اور حکومت کو ایم کیوایم پاکستان اپنی تمام توانائی و امدادی کارکنان دینے کوتیار ہے، خدمت خلق فاؤنڈیشن کی عمارتوں میں آئیسولیشن وارڈ قائم کرنے کیلئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں، اگر لاک ڈاؤن کے بعد شہر کی صورتحال سنگین ہوتی ہے تو ایم کیوایم پاکستان ضرورت مندوں میں غذائی اجناس کی تقسیم کا بندوبست کرے گی۔

اُن کا کہان تھا کہ کروناوائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے ایم کیوایم پاکستان تمام دفاتر ایک ہفتے کیلئے بند کررہی ہے، کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے زیادہ سے زیادہ احتیاط اور گھروں میں محدود رہیں، حج و عمرہ کیلئے پیسے رکھنے والوں سے اپیل ہے کہ ان پیسوں سےراشن غریبوں میں تقسیم کریں، ماضی کی طرح کرونا متاثرین کی امداد کیلئے ایم کیوایم پاکستان سب سے آگے ہوگی، کرونا فری کراچی کیلئے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور عوام کا تعاون ہم کو درکار ہے، کرونا کے حوالے سے حکومتی کوشش کو بھی سراہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: