ایم کیو ایم کا چھتیس سالہ سفر، ذکر بھی رہے گا اور عوام منتظر بھی …. تحریر عمیر دبیر

ایم کیو ایم کا چھتیس سالہ سفر، ذکر بھی رہے گا اور عوام منتظر بھی …. تحریر عمیر دبیر

ملکی تاریخ میں 18 مارچ 1984 کا دن سیاسی میدان میں ایک نئی جہد ثابت ہوا کہ طلباء تنظیم کی قیادت کرنے والے نوجوان لڑکوں نے نشتر پارک میں جلسہ سجایا اور کراچی سمیت شہری سندھ کی سیاست کو پکٹ کر رکھ دیا، اتفاق سے اُس روز مطلع ابر آلود تھا اور بارش کے قوی امکان تھے اس لیے گماں تھا کہ شاید عوام جلسے میں شرکت نہ کریں۔

بلیک اینڈ وائٹ نشریات کے دور میں بھی صحافی ، کیمرہ مین، رپورٹر، جلسہ کی کوریج کے لیے موجود تھے، دوپہر تین بجے پہلے سیاسی جلسے کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ، اُس سے قبل ایم کیو ایم (مہاجر قومی موومنٹ) کے علاقوں میں بننے والے کارکنان قافلوں ، ٹولیوں کی صورت میں براستہ لیاقت آباد ہوتے ہوئے نشتر پارک پہنچے، شرکاء کو خوش آمدید کہنے کے لیے مختلف مقامات پر کیمپ بھی لگائے گئے تھے جہاں صرف مہاجر نام کے نعرے گونجتے رہے۔

جلسے کے آغاز کے بعد جب مہاجر قومی موومنٹ کے پہلے چیئرمین عظیم احمد طارق نے تقریر شروع کی تو آسمان سے ابرِ رحمت بوندا باندی کی صورت میں برسنے لگا، انہوں نے جلسے کے اغراض و مقاصد جلدی جلدی بیان کیے اور تقریر کو مختصر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ بارش کی وجہ سے اب میں قائد تحریک اور آپ کے درمیان زیادہ دیر حائل نہیں ہوسکتا۔

الطاف حسین نے ڈائس سنبھالا اور تقریر کا آغاز کیا تو بوندا باندی اب بارش میں تبدیل ہوچکی تھی، یہی جلسہ تھا جہاں پہلی بار پن ڈراپ سائیلنس ہوا، جلسے میں شرکت کے لیے لوگوں کے قافلے مسلسل آرہے تھے کہ اچانک بارش بہت تیز ہوگئی، الطاف حسین نے تقریر کی اور ایسا فکر و فلسفہ بیان کیا کہ پنڈال میں بیٹھے لوگوں کو بارش سے کوئی فرق نہ پڑا۔

اب معاملہ بہت عجیب تھا کہ مائیک پر ’بانی ایم کیو ایم‘ موجود تھے، پنڈال میں لگائے جانے والے اسپیکرز پر اُن کی آواز گونج رہی تھی، ساتھ آسمان گرجنے کا سلسلہ جاری تھا، لوگ تقریر میں اس قدر محو ہوئے کہ جلسے میں شرکت کرنے والے خود بتاتے ہیں اور مؤرخین نے لکھا ہے کہ بارش کا پانی شرکاء کے ٹخنوں تک آگیا تھا مگر فرشی نشست پر بیٹھے لوگ ان سب حالات کے باوجود ٹس سے مس نہ ہوئے۔

خیر یہ تو تھا پہلا جلسہ جس نے تاریخ بدلی اور ایم کیو ایم کا قیام وجود میں آیا، ہر سال 18 مارچ آتی گئی اور کارکنان کے ساتھ عوام کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی یہ سلسلہ غالباً 2013 تک جاری رہا اُسی دوران کچھ لوگوں کی طرف سے زبردستی ، دھونس اور دھمکی سے لوگوں کو مجبور کر کے جلسے میں بھی لایا گیا یہی وجہ ہے کہ شہری ایک وقت میں مجبور ہوکر جلسے والے روز چھپ جاتے تھے تاکہ کوئی زبردستی انہیں جلسہ گاہ لے کر نہ جائے۔

آج ایم کیو ایم کے قیام کو 36 سال کا عرصہ ہوگیا، اس دوران جہاں بہت سارے اچھے کام ہوئے وہیں چند عناصر (رہنما) ایسے بھی تھے جو دو پٹی کی چپلوں میں آئے اور انہوں نے اپنی آئندہ کی چودہ نسلوں تک کی جائیدادیں جمع کرلیں، جب وفا کی آزمائش کا وقت آیا تو نظریے اور نظم و ضبط سکھانے والے مصلحت کا شکار ہوگئے۔

ایم کیو ایم کے قیام سے لے کر اب تک اس کے چھ سے زائد دھڑے بنے، ہر دھڑے نے دعویٰ کیا کہ وہ عوام کی ترجمانی اور مہاجروں کے حقوق کے لیے کام کررہا ہے، اگر موجودہ صورت حال کی بات کی جائے تو ضلع وسطی کا علاقہ لیاقت آباد جو کبھی ایم کیو ایم کے چاہنے والوں کا علاوہ تھا وہاں کی صورت حال ابتر ہے، باوجود اس کے کہ یہاں سے ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی قومی اور سینئر ڈپٹی کنونیئر کنور نوید جمیل صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئے، دونوں ہی ان علاقوں میں نہیں رہتے تو انہیں عوامی مسائل کا ادراک نہیں اور نہ ہی پہلے کی طرح زمینی سطح تک ایم کیو ایم کے کارکنان کام کررہے ہیں جو مسائل حل ہوسکیں۔ بلدیاتی نمائندوں میں چند ایک کے سب ہی منتخب ہونے کے بعد علاقوں سے غائب ہیں۔

ایسی صورت حال میں شہری پرانے وقت کو یاد کر کے مثالیں دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کم از کم پرانے ادوار میں اُن کی گلیوں کی صفائی ستھرائی، سیوریج کا نظام بہت بہتر تھا، نظام زندگی اس قدر ابتر نہ تھا۔ اب بھی وقت ہے کہ دعوؤں سے نکل کر عوام میں آیا جائے اور اُن کے کام کیے جائیں، اگر ایسا نہ ہوا تو بلدیات بھی چلا جائے گا اور عوام کو پختہ یقین ہوجائے گا کہ اُن کے مسائل کا ادراک اور اُن کا حل کسی کے پاس نہیں،  ایسے میں ذکر بھی رہے گا اور عوام منتظر بھی۔۔ کہ کوئی آئے اور مسائل کو حل کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: