Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی قتل کی دھمکیاں، کرائسٹ‌چرچ اللہ الکبر کی صداؤں‌ سے گونج اٹھا | زرائع نیوز

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی قتل کی دھمکیاں، کرائسٹ‌چرچ اللہ الکبر کی صداؤں‌ سے گونج اٹھا

کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو سوشل میڈیا پر جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد پولیس واقعے کی تحقیقات شروع کردی۔

نیوزی لینڈ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کو ٹوئٹر پر ایک بندوق کی تصویر بھیجی گئی، جس کے ساتھ یہ کیپشن درج تھا کہ ‘اس کے بعد آپ کی باری ہے’۔

مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اُن کا درد کم کرنے والی خاتون وزیراعظم کو دھمکی دینے والے شخص کے ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل ہونے سے 48 گھنٹے قبل اس تصویر کو پوسٹ کیا گیا تھا، تاہم مختلف لوگوں کی جانب سے اسے رپورٹ کرنے کے بعد اکاؤنٹ کو معطل کردیا گیا۔

اس کے علاوہ جیسنڈ آرڈرن اور نیوزی لینڈ پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے پوسٹ کی گئی دیگر تصویر میں ‘اگلے آپ ہیں’ لکھا ہوا تھا۔

ٹوئٹر کی جانب سے معطل کیے گئے اکاؤنٹ پر اسلام مخالف مواد اور سفید فام نفرت انگیز تقاریر موجود تھیں۔

اس کے علاوہ جیسنڈ آرڈرن اور نیوزی لینڈ پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے پوسٹ کی گئی دیگر تصویر میں ‘اگلے آپ ہیں’ لکھا ہوا تھا۔

https://zaraye.com/newzealand-friday-prayers/

ٹوئٹر کی جانب سے معطل کیے گئے اکاؤنٹ پر اسلام مخالف مواد اور سفید فام نفرت انگیز تقاریر موجود تھیں۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم کے اعلان کے مطابق دوپہر ایک بج کر 32 منٹ پر 2 منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی انتظامیہ کے مطابق صرف ہیگلے پارک کے اجتماع میں 15 ہزار افراد نے شرکت کی۔

سفید ٹوپی اور سیاہ لباس میں ملبوس موذن نے جیسے ہی اللہ اکبر کی صدا بلند کی تو پورے نیوزی لینڈ میں اس کی گونج سنائی دی گئی۔

اذان کے فوراْ بعد جہاں نیوزی لینڈ کے مختلف شہروں میں نمازِ جمعہ کے اجتماعات میں خاموشی اختیار کی گئی وہیں پڑوسی ملک آسٹریلیا میں بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے جو جہاں تھا 2 منٹ کے لیے وہیں ساکن ہوگیا۔

نمازِ جمعہ کے بعد دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی جس کے بعد تدفین کا عمل ایک بار پھر شروع ہوگیا جس میں ایک اندازے کے مطابق 5 ہزار افراد نے شرکت کی۔