’’کورونا وائرس ہر سال حملہ کر سکتا ہے‘‘

واشنگٹن: امریکا کے سینئر سائنسدان انتھونی فاکی کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے والا نیا کرونا وائرس ہر سال ٹھنڈ کے موسم میں حملہ آور ہو سکتا ہے۔ امریکی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انفیکشس ڈیزیز کے ہیڈ ریسرچر انتھونی فاکی نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ کرونا وائرس ہر سال سردیوں میں سیزنل وائرس کی طرح حملہ کرے گا، اس نے جنوب سے جڑ پکڑنا شروع کی تھی جہاں اس وقت سردیوں کا موسم ہے ۔

انتھونی فاکی نے کہا کہ اس وقت اس وائرس کی ویکسین اور مؤثر علاج جلد سے جلد ایجاد کرنے کی ضرورت ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ جنوبی افریقا اور دنیا کے جنوب خطوں میں یہ وائرس اب تیزی سے پھوٹ رہا ہے, ہمارے پاس زیادہ کیسز وہاں سے رپورٹ ہو رہے ہیں جن ممالک میں اس وقت ٹھنڈ ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس ایک سائیکل کی شکل اختیار کر لے اور اس وائرس کی ایک اور لہر سےہمیں لڑنا پڑے اس کے لیے ہمارا تیار رہنا بہت لازمی ہے، اس بات کا سارا دار و مدار اس بات پر پر ہے کہ ہم کب تک اس وائرس سے لڑنے کے لیے ویکسین تیار کر لیتے ہیں۔

انتھونی فاکی کا بتانا تھا کہ ہم دن رات ویکسین تیار کرنے اور ٹیسٹ کرنے میں جتے ہوئے ہیں تا کہ اس کا علاج جلدی سے جلدی عام عوام کو میسر ہو اور ہم اس کی دوسری لہر کے آنے سے پہلے اس سے لڑنے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس اس وائرس کے لیے دو ویکسین تیار ہیں جو ہم انسانوں پر آزما رہے ہیں، ایک امریکا کے پاس ہے اور دوسری چین کے پاس موجود ہے جبکہ اس کے مکمل طور پر استعمال پر ایک سے ڈیرھ سال لگ سکتا ہے، اس کی آزمائش اور انسانوں پر آنے والے اثرات پر مزید تحقیق جاری ہے۔

انتھونی فاکی کا کہنا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس وبائی مرض کو شکست دیں گے مگر ہمیں کورونا وائرس کے دوسرے حملے کے لیے بھی تیار رہنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ وائرس ٹھنڈ میں زیادہ متحرک اور انسان کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ گرمی میں اس کا حملہ کمزور ہوتا ہے اور اس کی پھیلنے کی صلاحیت بھی کمزور ہوتی ہے ، اس وائرس سے متعلق یہ حرف آخر نہیں ہے، مزید تحقیق اور اس پر کام جاری ہے ، مختلف ممالک میں اس پر ہونے والی تحقیق کے نتیجے ایک ساتھ پڑھنے اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے اس کے بعد ہی ہم کسی ایک نکتے پر پہنچ سکیں گے ۔

انتھونی فاکی نے کہا کہ سرد موسم میں چھینکنے اور کھانسے کے دوران انسان سے نکلنے والے پانی کے چھوٹے چھوٹے ذرّات زیادہ دیرتک ہوا میں رہتے ہیں اور دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں جبکہ سردیوں میں انسانوں کا قوت مدافعت بھی کمزور ہوتا ہے اس لیے زیادہ وائرسز اور انفیکشن حملہ کرتے ہیں۔امریکی سائنسدان نے مزید کہا کہ اس کے انسان سے دوسرے انسان میں پھیلنے کے مواقع اس لیے بھی زیادہ ہیں کیوں کہ یہ چیزوں کی سطح سے بھے لگ سکتا ہے اور پھیل سکتا ہے ، ایک انسان اس سے متاثر ہوگا تو وہ کئی کو متاثر کر سکتا ہے اس لیے اس سے بچنے کے لیے فی الحال صاف ستھرائی کا خیال کریں، یہ وائرس ایک چکنی تہہ میں بند ہوتا ہے لہٰذا بار بار صفائی کریں اور ہاتھ دھوئیں تاکہ یہ پھسل جائے اور آپ کے ہاتھوں یا مختلف چیزوں کی سطحوں سے دوسروں میں منتقل نہ ہو سکے۔

بشکریہ جنگ نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں: