کرونا وائرس خلاف ورزی، غریب اور ایلیٹ‌ کلاس کی علیحدہ علیحدہ سزائیں

لاہور: پنجاب پولیس نے ایک روز قبل پاکستان کی نامور فیشن ڈیزائنر ماریہ بی کے شوہر کو کرونا پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا البتہ وزیراعظم کی مداخلت پر اُن کے شوہر کو کچھ دیر میں رہا کردیا گیا۔

اُن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ روتے ہوئے اپنے شوہر کی رہائی اور انصاف کا مطالبہ کررہی تھیں۔ ماریہ بی کا اپنی ویڈیو میں کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے رات کے وقت ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کے شوہر کو گرفتار کرلیا جبکہ انہیں وکیل سے بات کرنے کا موقع تک نہیں دیا۔

تاہم لاہور پولیس کے ترجمان نے ڈیزائنر کی جانب سے بنائی اس ویڈیو کو بے بنیاد ٹھہراتے ہوئے بتایا کہ ماریہ بی کے شوہر طاہر سعید کو پولیس نے اس لیے گرفتار کیا کیوں کہ انہوں نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے اپنے باورچی کو ہسپتال لے جانے کے بجائے واپس اس کے گاؤں بھیج دیا تھا۔

پولیس کے مطابق ڈیزائنر برانڈ کے مالک طاہر سعید کے ملازم حافظ عمر فاروق میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے متعلقہ حکام سے رابطہ کرنے کے بجائے اسے واپس گاؤں بھیج دیا۔

بعد ازاں سوشل میڈیا پر معاملہ اٹھنے کے بعد وزیراعظم نے مداخلت کی اور وزیراعلیٰ کو ہدایت کی کہ وہ ماریہ بی کے شوہر کی رہائی کو یقینی بنائیں، بعد ازاں ماریہ بی نے اپنے خاوند کے ساتھ ویڈیو بنائی جس میں انہوں نے حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر صارفین نے حکومت کے اس اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ غریب ، متوسط طبقے یا ایلیٹ کلاس کے لیے قانون کو یکساں رکھا جائے، اگر کوئی کرونا پھیلانے کا سبب بنے یا لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرے تو اُس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: