متحدہ کا 33واں‌ یوم تاسیس، کس کا سکہ بیٹھے گا

کراچی: مہاجر قومی موومنٹ کو قومی دھارے میں لانے کے لیے اس کا نام تبدیل کر کے متحدہ رکھ دیا گیا تھا، جس کے بعد سے ایم کیو ایم  18 مارچ کو یومِ تاسیس مناتی ہے۔

گزشتہ سال تک یوم تاسیس کا پروقار اجتماع جناح گراؤنڈ میں منعقد کیا جاتا تھا، جس سے بانی ایم کیو ایم خطاب کرتے تھے، سال 2016 میں ایسی خبریں بھی سامنے آئیں تھیں کہ بانی ایم کیو ایم اپاہچ ہوگئے یا پھر اُن کا انتقال ہوگیا۔

پاکستان کے بڑے بڑۓ نامور سیاستدانوں اور صحافیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بانی ایم کیو ایم دنیا سے گزر چکے اور اُن کی آوازمیں لندن میں بیٹھے اراکین خطاب کر کے کارکنان کو کنٹرول کرتے ہیں۔

Image result for Jinnah Ground Altaf Hussain

ان تمام باتوں کے بعد بانی ایم کیو ایم نے 18 مارچ 2016 کو ویڈیو لنک سے خطاب اور خود اپنی ٹانگوں پر بغیر سہارے چل کر تمام باتوں کا جواب ایک تقریر میں دے دیا، اجتماع میں شرکت کرنے والے اس بات کے گواہ ہیں کہ اُس رو
ز جناح گراؤنڈ، مکا چوک، عائشہ منزل تک لوگوں کے سر ہی سر موجود تھے اور تل دھرنے کی جگہ تک نہ تھی۔

ایک خطاب نے پارٹی کو نئی جلاح بخشی ، رابطہ کمیٹی ، تنظیمی کمیٹی کے اراکین خود حیران تھے کہ یہ سب کیسے ممکن ہوا کیونکہ ٹیلی ویژن پر پہ در پہ گرفتاریوں اور اسلحہ برآمدگی کی خبریں منظر عام پر آرہی تھیں اور عوام مقامی قیادت (رابطہ کمیٹی) کے رویوں سے عاجز تھے۔

امسال متحدہ کی صورتحال کافی مختلف ہے کیونکہ مقامی قیادت نے علیحدگی اختیار کرلی ہے او روہ کراچی اوون کرنے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرنے کا دعویٰ کررہی ہے۔

بائیس اگست کے بعد سیاسی میدان میں بہت اتار چڑھاؤ آئے، ایم کیو ایم کی مقامی قیادت ایک بار بھی اپنی حق پرستی کی نشانی (شہداء یادگار) پر حاضری نہ دے سکی جبکہ الطاف حسین کے ساتھ چلنے والے کسی نہ کسی صورت وہاں پہنچ کر اپنے کارکنان کو خراج عقیدت پیش کر کے آگئے۔

الطاف حسین کی حالیہ تصویر

کارکنان کی گرفتاریوں ، ماورائے عدالت قتل پر مقامی قیادت صرف میڈیا بیانات تک محدود نظر آئی جبکہ عارضی مرکز نہ جانے والی خواتین رینجرز ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرہ کرواکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتی نظر آئیں، پروفیسر حسن ظفر عارف جیسے قابل شخصیت کی گرفتاری پر مقامی قیادت نے کوئی بیان نہ دیا جبکہ لندن میں بیٹھے افراد اس گرفتاری پر سرآپا احتجاج دکھائی دیے۔

خیر تمام تر صورتحال کے بعد پہلی بار 18 مارچ آیا ، 23 اگست کو بننے والی جماعت نے بھی 18 مارچ کو ہی یوم تاسیس منانے کا اعلان کیا جبکہ الطاف حسین کے ساتھ چلنے والوں نے 18 مارچ کو مہاجر ڈے کا نام دیا، مقامی قیادت نے تقریب منعقد کی جبکہ لندن سے پیغام آیا کہ بانی ایم کیو ایم بذریعہ ویڈیو لنک کارکنان سے خطاب کریں گے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ گزشتہ 18 مارچ کی طرح الطاف حسین مقامی قیادت کی حمایت و مدد کے بغیر سوشل میڈیا پر اپنا سکھا بٹھانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر پی آئی بی کے عارضی مرکز کی مقامی قیادت اپنے پنڈال تک کارکنان کو لانے میں کامیاب رہتی ہے۔ فیصلہ آج رات تک ہوجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: