آفتاب احمد کے لیے بھی اقدامات ہوتے تو وہ ہمارے ساتھ ہوتا

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی ڈرامائی گرفتاری اور صرف ایک گھنٹے کے اندر رہائی کے بعد کارکنان اور عہدیداران میں نہ صرف عدم اعتماد پیدا ہوا بلکہ تحفظات بڑھ بھی گئے۔

پی اے ایف میوزیم میں شادی کی تقریب سے واپسی پر سندھ پولیس اور سادہ لباس اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتار ہوکر تھانے منتقل ہونے والے فاروق ستار کو وزیراعلیٰ نے مشکوک قرار دے کر گرفتاری سیاسی بنا دی۔

پولیس ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں اشتعال انگیز تقاریر میں عدالتی احکامات کے بعد گرفتار کیا گیا ہے جن میں وہ اشتہاری ہیں اور عدالت میں حاضر نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کو شاہراہ فیصل سے حراست میں لیا گیا اور آرٹلری تھانے میں درج ایف آئی آر کا حوالہ دیا گیا تاہم جب انہیں چاکیواڑہ تھانے منتقل کیا گیا تو اسی دوران وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان نے فاروق ستار پر گرفتاری سے بچ کر فرار ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔

تھانے منتقل ہونے کے بعد پولیس ذرائع نے اُن کی گرفتاری کی تصدیق کی تاہم انہیں ایک گھنٹے بعد ڈرامائی انداز میں چھوڑ دیا گیا، گرفتاری کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور نیوز چینل پر مختلف تبصرے بھی ہونے لگے، اسلام آباد میں بیٹھے کچھ اینکرز نے فاروق ستار کی گرفتاری کو ایم کیو ایم لندن کو سیاسی میدان فراہم کرنا بتایا۔

ایک گھنٹہ چائے پانی کے بعد جب ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ کو رہائی ملی تو وہ سیدھے عارضی مرکز پہنچے اور پچھلے دروازے سے گھر میں داخل ہوکر رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوگئے۔

اجلاس کے بعد جب چہرہ کارکنان کے سامنے آیا تو بااعتماد شخصیت کے منہ پر خوف کی علامات واضح تھیں، اسی دوران فاروق ستار نے آگاہ کیا کہ انہیں گرفتار نہیں کیاگیا بلکہ بات چیت کے لیے تھانے منتقل کیا گیا تھا۔

اسی دوران خواجہ اظہار الحسن اور فیصل سبزواری نے بھی بتایا کہ انہوں نے اعلیٰ سطح پر رابطے کیے اور فاروق ستار کی رہائی کے لیے بات چیت کی، انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق فاروق ستار کی گرفتاری اعلیٰ سطح پر سیاسی دباؤ کے بعد ممکن ہوئی اور اس سلسلے میں وفاقی وزیروں نے اہم کردار ادا کیا جنہوں نے دو روز قبل ایم کیو ایم پاکستان کے سیاسی کردار کی تعریف بھی کی تھی۔

سربراہ کی گرفتاری کی خبر سن پی آئی بی پہنچنے والے اسیر کارکنان کے اہل خانہ نے سربراہ کی اچانک گرفتاری اور رہائی پر کئے سوالات کھڑے کردیے، حال ہی میں گلستان جوہر سے گرفتار ہونے والے کارکن کے والد کا کہنا ہے کہ “ہمارے بچوں کے لیے عدالت میں وکیل نہیں بھیجے جاتے اور اپنی باری میں موبائل کے بیلنس تک ختم کردیے”۔

گرفتاری کی ویڈیو 

لیاقت آباد سے سیاسی وابستگی کے باعث گرفتار ہونے والے کارکن کی اہلیہ نے کہا کہ اس طرح کی چیزیں اور ڈرامے کہانی بتانے کے لیے کافی ہیں کیوں کہ میں اپنے شوہر سے ملاقات کے لیے جوتے گھستی ہوں مگر متحدہ کے وکلاء ہماری مدد نہیں کرتے اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہدایت نہیں۔

پریس کانفرنس میں ڈاکٹر فاروق ستار کے “مائنس ون” اعتراف کے بعد کارکنان میں تحفظات بڑھ گئے ہیں، پی آئی بی میں امور سرانجام دینے والے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ بانی الطاف بھائی ہیں اور ہم نے 23 اگست کا اقدام صرف مصالحت کے تحت اٹھایا جس کی بانی تحریک نے ہمیں اجازت بھی دی۔

پڑھیں: اراکین اسمبلی لندن کی طرف دیکھ رہے ہیں، عشرالعباد

کورنگی سے تعلق رکھنے والی خاتون کارکن کا کہنا ہے کہ ہم کو اگر مائنس ون کا علم ہوتا تو یہاں نہ ہوتے، ہمیں بتایا گیا کہ لندن میں بیٹھے کچھ افراد بھائی سے غلط فیصلے کروارہے ہیں، 23 اگست کی علیحدگی بھائی نے نہیں لندن ٹولے سے ہے۔

فاروق ستار کے کوارڈینیٹر آفتاب احمد کی قریبی خاتون عزیز نے کہا کہ اگر آفتاب کی گرفتاری کے بعد ایسے اقدامات کیے جاتے تو وہ ہمارے درمیان موجود ہوتا وہ بالکل بے گناہ تھا، مگر افسوس کے ہمیں انصاف تک نہ ملا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: