شہری پاسپورٹ کے لیے دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور

کراچی: وفاقی وزیر داخلہ کے بلند و بانگ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، بناء ایجنٹ کے پاسپورٹ بنوانے والے عوام کے نصیب میں دھکے کھانے ہی باقی رہ گئے۔

شہر قائد میں واقع پاسپورٹ آفس میں عوام کی بڑی تعداد پاسپورٹ کے حصول کے لیے آتی ہے تاہم باہر بیٹھی ایجنٹ مافیا وزیر داخلہ کے احکامات اور ایف سی اہلکاروں کی موجودگی میں بھی دھندے میں مصروف عمل ہے۔

کراچی پاسپورٹ آفس میں عملے کے اوقات صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک ہیں جبکہ عملہ 11 بجے سے پہلے کام کرنے پر راضی نہیں ہوتا، آج جمعے کے روز عملہ نماز کے بعد ایک گھنٹہ کام کرتا ہے تاہم ایجنٹ سے پاسپورٹ بنوانے والے لوگوں کے کام نہیں رکتے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ علی نامی شخص دفتر میں لوگوں کے کام کرنے کے بجائے انہیں واپس جانے کا مشورہ دے رہا ہے اور عوام کی تکلیف پر اُسے کسی قسم کا کوئی افسوس نہیں تاہم ویڈیو بنانے والی خاتون نے جب اُس سے وجہ دریافت کی تو اُس نے کام نہ کرنے کا کہتے ہوئے خاتون کو ویڈیو میڈیا چینلز میں بھیجنے کا کہا۔

فوٹیج اور عملے کے رویے سے ثابت ہوتا ہے کہ کراچی پاسپورٹ آفس کا عملہ عوام کو کسی گنتی میں نہیں لاتا اور اپنی مرضی سے ہی کام کرتا ہے تاہم ایجنٹ سے طے کردہ پیسوں کے باعث وہ کام کر کے ہر ماہ بھاری رقم کماتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں