پاکستان کا سفارت کار کوئی جاسوس نہیں‌ بنے گا،

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ویزوں کے اجرا کا ایک ایسا نظام متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے غلط طریقے سے ویزوں کے اجرا کا راستہ تقریباً بند ہو جائے گا۔

اسلام آباد میں منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جولائی 2014 میں انھوں نے اس نوٹیفیکیشن کو معطل کیا جس کے تحت ‘ایک ملک میں پاکستانی سفیر کو سکیورٹی ایجنسیوں کی کلیئرنس کے بغیر ویزے جاری کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔’

انھوں نے کہا کہ اس نظام کے تحت اب دوسرے ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے جاسوس سفارتی ڈیوٹیوں کی آڑ میں ملک میں داخل نہیں ہوں سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے غیر ملکی ایئر لائنز کو صحیح دستاویز نہ ہونے کے باوجود مسافر لانے پر گذشتہ دو سالوں میں نو کروڑ روپے کے جرمانے کیے ہیں۔

‘یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ امیگریشن کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے علیحدہ کیا جائے گا۔ اس کے لیے وزیر اعظم سے منظوری لینی ہے۔’

انھوں نے کہا کہ ‘اگر کوئی یہ سوال کرے کہ سفارتی کردار میں جاسوسوں کے ملک میں آنے کے حوالے سے تحقیقات کیوں نہ کی جاتیں تو پچھلے دس سال میں ویزوں کے اجرا کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے تو تحقیقات کہاں سے ہوں۔’

سوشل میڈیا پر توہین مذہب کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ انھوں نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب سے کہا کہ وہ فیس بک اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ اس ایشو کو اٹھائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘کل ہی فیس بک کے نائب صدر نے مجھے خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے تحفظات کو دور کریں گے اور فیس بک کا ایک وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔’

چوہدری نثار نے کہا کہ فیس بک نے حکومت پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ انھوں نے چند مہینوں میں 62 فیس بک پیج بند کیے ہیں اور گذشتہ دو تین دنوں میں 45 مزید پیج بلاک کیے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

اپنا تبصرہ بھیجیں: