اسلام آباد:پی ٹی آئی وفد اور اسپیکر قومی اسمبلی کے درمیان ملاقات بے نتیجہ ختم ہو گئی جس میں سپیکر قومی اسمبلی نے اجتماعی استعفے منظور کرنے سے انکار کردیا جب کہ تحریک انصاف کی جانب سے اجتماعی استعفے منظور کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے وفد کو بتایا کہ 2 2 ارکان نے فون کرکے استعفیٰ نہ دینے کی خواہش سے خود فون کر کے آگاہ کیا۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور اپنا مؤقف بتانے کے ساتھ مطالبات تحریری طور پر پیش کیے ۔
سابق اسپیکر اسد قیصر، سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری، عامر ڈوگر، ڈاکٹر شبیر قریشی، فہیم خان، عطا اللہ، امجد خان نیازی، طاہر اقبال، زاہد اکرم درانی و دیگر نے ملاقات کی۔اسپیکر نے کہا کہ سیاست میں دروازے بند نہیں کیے جاتے، سیاست دانوں میں رابطے ہونے چاہییں، استعفوں کے تصدیق کے حوالے سے آئین پاکستان اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا،استعفوں کے لیے تمام ارکان کو انفرادی طور پر بلایا جائے گا، پہلے بھی پی ٹی آئی ارکان کو استعفوں کی تصدیق کے حوالے سے مدعو کیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کے کراچی سے ایک رکن اسمبلی نے استعفے کی منظوری روکنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا ، پی ٹی آئی وفد نے سپیکر کو مطالبات تحریری طور پر جمع کرادیے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہم نے اجتماعی استعفے دیئے کہ ملک میں عام انتخابات کی راہ ہموار کی جائے، ہم نے کسی کی انٹرٹینمنٹ کے لیے استعفے نہیں دیے کہ ایک ایک کر کے بلایا جائے۔
پی ٹی آئی وفد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی گیارہ استعفے غیر آئینی طریقے سے منظور کیے گئے، جاوید ہاشمی کیس میں سپریم کورٹ استعفوں کی منظوری سے متعلق واضح کر چکی ہے،استعفے سابق ڈپٹی سپیکر منظور کر چکے ہیں، اب استعفوں کی تصدیق کا عمل نہیں معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجنے کا ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ قانون اور آئین کے مطابق قومی اسمبلی نشستوں سے استعفے دے چکے ہیں،سپیکر قومی اسمبلی قانون کے مطابق ہمارے استعفے منظور کریں ،موجودہ اسمبلی کے پاس مینڈیٹ نہیں ہے، جو کہ عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ ہے ۔
تحریک انصاف کے 22باغی کون ہیں،نواز الائی اور طالب نکئی نے سپیکر کو چھٹی کی درخواست دے دی جبکہ 6 ارکان نے استعفوں پر اپنے دستخطوں کوہی غلط قرار دے دیا، 2ارکان نے حاضری لگادی۔ذرائع کےمطابق سپیکر نے تحریک انصاف کے وفد کے سامنے ان کے مستعفی ارکان کا پول کھول کر رکھ دیا،ملاقات میں انہوں نے وفد کو بتایا کہ 2 درجن ارکان نے فون کرکے استعفیٰ نہ دینے کی خواہش سے خود آگاہ کیا ، پرویز اشرف نے بتایا کہ آپ کے 2 ایم این ایز نے تو چھٹی کی درخواست دے رکھی ہے، 3 ارکان اپنی حاضری لگا کر تنخواہ لینے کے دعویدار بنے بیٹھے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سپیکر نے پی ٹی آئی کے وفد کو استعفے نہ دینے والے اراکین اور خفیہ رابطوں سے آگاہ کرتے ہوئے مزید بتایا کہ زبیدہ جلال، غلام بی بی بھروانہ،غلام محمد لالی تنخواہ کے لئے ایوان میں حاضری لگا چکے ہیں اور حاضری کی بنیاد پر تنخواہ کا بھی دعویٰ کررکھا ہے۔ذرائع نے بھی بتایا ہے کہ 22 ارکان نے سپیکر کو ٹیلی فون کیا اور کہا کہ استعفی نہیں دینا چاہتے ،سپیکر کے انکشافات پر پی ٹی آئی وفد حیران ہوگیا اور ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگا ،بعض ارکان کہنے لگے کہ یہ ہمارے ساتھ کیا ہورہاہے۔
