تاجروں کا بائیکاٹ‌:‌ بھارت کی معیشت کو شدید دھچکا

سندھ تاجر اتحاد (ایس ٹی آئی) اور سندھ کی تاجر تنظیموں نے ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے پاکستانی مصنوعات رکھنے والی دکانوں پر حالیہ حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

ایس ٹی آئی نے سندھ بھر میں اپنے تمام اراکین کو ہدایت کی کہ 15 مئی تک بھارت سے درآمد اور اسمگل شدہ تمام مصنوعات کو اپنی دکانوں سے ہٹادیں۔

ایس ٹی آئی کی جانب سے میٹھادر اور اولڈ سٹی ایریا میں احتجاج کےدوران بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا جبکہ چند شرکاء نے بھارتی مصنوعات کو آگ لگا دی۔

ایس ٹی آئی کے چیئرمین جمیل پراچا نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو دھمکیوں اور حملوں جبکہ بھارتی فورسز کی کشمیریوں کے قتل کی مذمت کی۔

انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان مظالم کے باوجود بھارتی اشیاء کثیر تعداد میں پاکستان آتی ہیں۔

ایس ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری اسماعیل لیالپوریا نے کہا کہ بھارت کی اکثر اشیا دبئی اور ایران کے راستے سے یہاں پہنچتی ہیں۔

ایس ٹی آئی کےرہنماؤں نے حکومت پر بھارتی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے پر زور دیا۔

جوڑیا بازار کے ایک بڑے تاجر کا کہنا تھا کہ بھارت کی صرف اُن اشیا کو پاکستان میں منگوایا جاتا ہے جو چینی مصنوعات کے مقابلے میں سستی اور بہتر ہوتی ہیں۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے آل کراچی تاجر اتحاد (اے کے ٹی آئی) کے صدر عتیق میر نے کہا کہ نہ ہی پاکستان اور نہ بھارت مکمل طور پر دوطرفہ تجارت پر پابندی کا متحمل ہوسکتا ہے کیونکہ ان کی مصنوعات کے معیار اور صارف کے حصول کے اعتبار سے بڑی طلب ہے۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے مسعود نقی، غضنفر علی خان اور عمر رحمٰن سمیت دیگر عہدیداران نے بھی ہندو انتہا پسندوں کے رویے کی مذمت کی اور سفارتی حلقوں کے ذریعے بین الاقوامی فورمز پر معاملات کو اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے مسعود نقی، غضنفر علی خان اور عمر رحمٰن سمیت دیگر عہدیداران نے بھی ہندو انتہا پسندوں کے رویے کی مذمت کی اور سفارتی حلقوں کے ذریعے بین الاقوامی فورمز پر معاملات کو اٹھانے کا مطالبہ کیا۔


یہ رپورٹ 25 اپریل 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

اپنا تبصرہ بھیجیں: