کراچی: بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ 15 جنوری کو سندھ میں دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، سندھ حکومت کے شق 10Aکے آرڈر کے بعد آپ کا اختیار ختم ہوگیا ۔
متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد پر ڈپٹی کنوینر وسیم ختر اراکین رابطہ کمیٹی فیصل سبزواری، فروغ نسیم اور ڈاکٹر فاروق ستار و مصطفیٰ کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت سندھ نے ایک قانون کے تحت یوسیز بنائی تھیں جس کی آبادی میں تضاد تھاجہاں ایم کیوایم کا ووٹ بینک تھا وہ یوسیز زیادہ آبادی پر بنادی گئیں ایم کیوایم نے عدالتوں میں متنازع حلقہ بندیوں کو چیلنج کیامتنازعہ حلقہ بندیوں پر ایم کیوایم کا اعتراض سندھ ہائی کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک زیر سماعت رہاسپریم کورٹ نے ہمارے اعتراضات کو جائز سمجھ کر سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا کہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی سندھ ہائی کورٹ میں ایم کیوایم پاکستان کی پٹیشن کی حمایت کی الیکشن کمیشن آف پاکستان سے کہتا ہوں کہ شق 10Aکے آرڈر کے بعد آپ کا اختیار ختم ہوگیا، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے آرڈر کو فولو نہیں کیا جاسکتاکراچی کے حقوق کیلئے متنازعہ حلقہ بندیوں کو ٹھیک کیا جائےالیکشن کمیشن سے درخواست ہے ہم کو سن لیں چاہیں ویڈیو لنک کے ذریعے ہی سن لیں انکا کہنا تھا کہ تک حلقہ بندیاں ٹھیک نہیں ہونگی کراچی کے الیکشن متنازعہ ہونگے۔
رکن رابطہ کمیٹی ووفاقی وزیر فیصل سبزواری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آئین الیکشن کمیشن کو صاف و شفاف الیکشن کرانے کا کہتا ہےجہاں الیکشن اور حلقہ بندیاں ہی متنازع ہو وہ الیکشن کیسے شفاف ہوسکتے ہیں؟ کراچی کی حلقہ بندیوں کوصحیح کرنے کیلئے ایم کیوایم پاکستان سپریم کورٹ تک گئی، جب کراچی کا حق مارا جارہا تھا کوئی ایک نام نہاد جماعت عدالت نہیں گئی، سندھ کے شہری علاقوں کو درست گنا جائےشہری سندھ کی صحیح مردی شماری کے حساب سے انکے بچوں کو نوکریاں دی جائیں ایم کیوایم پاکستان نے ایوانوں سے نئی مردم شماری کو منظور کروائی، انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف آج چیمپئن بن رہی ہے جبکہ یہ کراچی میں جعلی مردم شماری کروانے والوں کے ساتھ تھے،آج چیمپئن بننے والوں سے کہتا ہوں کہ صرف بینرلگا کر کراچی کو حق نہیں ملے گا 2021 سے عدالتوں میں حلقہ بندیوں کو صرف ایم کیوایم چیلنج کررہی ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جو جماعتیں الیکشن ملتوی ہونے کا ڈرامہ کر رہی ہیں انہیں کراچی اور حیدرآباد کے عوام سے کچھ لینا دینا نہیں وہ صرف سندھ کے شہروں پر قبضے کا خواب دیکھ رہے ہیں جو کبھی پورا نہیں ہوگا، انکا کہنا تھا کہ خاص طور پر جماعت اسلامی کی پریشانی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تشہیر پر اتنا پیسہ لگادیا ہے تو اب کیا ہوگا۔ آخر میں ڈاکٹر فاروق ستار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چند لوگ خوش تھے کہ تقسیم شدہ ایم کیوایم کےسبب وہ کراچی سے تھوڑے زیادہ ووٹ لے لیں گے لیکن اب ایم کیو ایم پاکستان کے اتحاد سے وہ نام نہاد عناصر پریشان ہیں کہ ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفی کمال ایم کیوایم پاکستان کے اسٹیج پر کیوں موجود ہیں،انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم الیکشن سے بھاگ نہیں رہی بلکہ کراچی سے آپ کو بھگانے کی تیاری کر رہی ہے، ایک جماعت اپنے امیدواروں کارناموں کے سبب صرف عمران خان کی تصاویر لگارہےجبکہ دوسری جماعت کراچی میں اپنے امیر تک کی تصاویر نہیں لگاپارہی ہے۔
الیکشن کمیشن نے آج سندھ کے وزیراعلی اور کابینہ کا فیصلہ ایک طرف اٹھاکر رکھ دیا، انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کیا سپریم کورٹ سے بھی معتبر ہوگیا؟۔
