تہران : امریکا اوراسرائیل کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں نے ایران کوایک مضبوط اشارہ دیا تھا کہ دونوں ممالک تہران یا اس کے آلہ کاروں کی طرف سے کسی بھی ضرررساں یاتخریبی سرگرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیارہیں۔ لیکن حکام کے مطابق جونیپر اوک 23.2 مشقیں اسرائیل کی سلامتی کے لیے واشنگٹن کے ‘آہنی’ عزم کو ظاہر کرنے سے کہیں زیادہ تھیں۔امریکا اب تنازعات اورجنگ زدہ علاقوں میں مداخلت کے طریق کارکو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا مظاہرہ گذشتہ ہفتے پینٹاگون کی جانب سے تاریخ میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مشق کے دوران میں کیا گیا تھا۔
امریکا کےایک سینیردفاعی عہدہ دار نے بتایا کہ قریباً 6400 امریکی فوجیوں اور 140 سے زیادہ طیاروں نے اس فوجی مشق میں حصہ لیا تھا۔ان میں بی 52، ایف 35، ایف 15، ایف 16، ہائی موبلٹی راکٹ آرٹلری سسٹم (ہیمارس)، کثیرمقاصد لانچ راکٹ سسٹم (ایم ایل آر ایس) اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبارطیارے شامل تھے۔عہدہ دارنے بتایا کہ تیزی سے، ہم ایک ایسی پوزیشن میں منتقل ہونا چاہتے ہیں جہاں ہماری قابل ذکرموجودگی اب بھی خطے میں برقرارہے، لیکن جب ہمارے پاس خطرے کے اشارے اورانتباہ ہوں گے تو ہم خطے میں متحرک طورپرفورسز کو بڑھانے کے قابل ہیں۔بہ الفاظ دیگر، امریکا کسی ملک یا میدان جنگ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی سے پیچھے ہٹنا چاہتا ہے، جیسا کہ عراق اور افغانستان میں ہوا تھا، اورمتحرک فورس کے اطلاق (ایمپلائمنٹ) یا ڈی ایف ای کی حکمتِ عملی پرعمل پیراہورہا ہے۔
ڈی ایف ای کو 2018 کی قومی دفاعی حکمت عملی (این ڈی ایس) میں بیان کیا گیا تھا کہ یہ محکمہ دفاع کو “اسٹریٹجک ماحول کو فعال طورپرتشکیل دینے کے لیے تیارافواج کو زیادہ لچکدارطریقے سے استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے جبکہ ہنگامی حالات کا جواب دینے اور طویل مدتی جنگ کی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے تیاررہتا ہے۔
ڈی ایف ای کی حکمت عملی امریکا کو محدود مدت کے لیے کسی مشن پرتیزی سے فوج بھیجنے اور مکمل ہونے کے بعد واپس آنے کی اجازت دے گی لیکن ایسا کرنے کے لیے امریکا کو ایسے شراکت داروں پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے جو بھرپورباہمی تعاون کے قابل ہوں اور’’پہلے ہی امریکا کے نیٹ ورکس‘‘ میں ضم ہو چکے ہوں۔
