لاہور : پنجاب اور خیبر پختو نخوا کے انتخابات کے انعقاد میں تکنیکی مسائل آڑے آنے لگے،دونوں صوبوں میں انتخبابات ہوئے تو پرانی مردم شماری پر ہوں گے۔ میڈیا رپورٹس میں حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختو نخوا کے انتخابات کے انعقاد میں تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔
90 روز سے کم مدت میں نئی مردم شماری ممکن نہیں اس لیے اگر دونوں صوبوں میں الیکشن ہوئے تو پرانی مردم شماری پر ہوں گے۔
بلوچستان،سندھ اور قومی اسمبلیوں کے انتخابات سے قبل بھی مردم شماری ہونی ہے۔پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتیں نئی مردم شماری کے بعد ہی الیکشن چاہتی ہیں،ایسا نہ ہوا تو الیکشن نتائج کے بعد کئی اعتراضات آئیں گے۔
ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیوں ہوں گی،نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات دور ہونے کے بعد عام انتخابات ممکن ہیں،پنجاب اور کے پی میں الیکشن کا التوا بھی اسی بنیاد پر ہونے کا امکان ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دینے سے متعلق کیس میں فریقین کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس جواد حسن نے درخواست پر سماعت کی۔گورنر پنجاب کے وکیل بھی عدالت پیش ہوئے اور جواب جمع کرانے کے لیے وقت مانگ لیا،لاہور ہائیکورٹ نے گورنر پنجاب کے وکیل کو جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی،عدالت نے آئندہ سماعت سے قبل فریقین کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ جواب کی کاپی درخواست گزار کو فراہم کریں ۔
پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے عدالت میں بتایا کہ گورنر نے پنجاب کے الیکشن سے متعلق کوئی تاریخ نہیں دی،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے،الیکشن ہونے ہیں،کوئی سنجیدہ نہیں لے رہا۔
لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کیا ہر جگہ لکھا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں،عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا بتائیں الیکشن کب کرائیں گے،وکیل نے جواب دیا کہ ہم الیکشن کرانے کے لیے تیار ہیں۔
