Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
دہشت گردی کے خاتمے تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے،وزیراعظم | زرائع نیوز

دہشت گردی کے خاتمے تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے،وزیراعظم

پشاور : وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے،حکومت دہشت گردی کیخلاف تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔امید ہے آل پارٹیز کانفرنس میں وہ بھی آئیں گے جو میرے ساتھ ہاتھ ملانا گوارہ نہیں کرتے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت پشاور ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 30 جنوری کو پشاور دھماکے میں شہادتیں ہوئیں،پشاور میں اجلاس بلانے کا مقصد ہی لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنا ہے،قوم سوال کررہی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بعد یہ واقعہ کیسے رونما ہوا؟پشاور واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ کمزوری کہاں تھی؟ پشاور دھماکے کے بعد بے جا تنقید اور الزامات لگائے گئے جس کی مذمت کرتے ہیں،یہ کہنا کہ پشاور واقعہ ڈرون حملے سے ہوا یہ نامناسب تھا،دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اختلافات بھلا کر ہم نے مل کر قوم کو یکجا کرنا ہے،حکومت دہشت گردی کے خلاف تمام وسائل بروئے کار لائے گی،وفاق،صوبے،سیاسی جماعتیں اور سب مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں،وقت کی ضرورت ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر اس کی اونر شپ لیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد ہربار طعنہ ملتا ہے کہ وفاق ساتھ نہیں دے رہا،2 010سے اب تک خیبرپختونخوا حکومت کو 417 ارب روپے دیئے جا چکے ہیں،خیبرپختونخواکو دی گئی 417 ارب کی رقم کی ایک چوتھائی بھی خرچ ہوتی تو یہ حالات نہ ہوتے،دہشت گردی کے خاتمے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے،چیلنجز کے باوجود دہشت گردی پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ منگل کو آل پارٹیز کانفرنس ہو گی،جو میرے ساتھ ہاتھ ملانا گوارہ نہیں کرتے ہم نے ان کو بھی دعوت دی،امید ہے کہ آگے سے نفی میں جواب نہیں آئے گا۔ انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جب مجھے خط لکھتے تھے تو میرا نام نہیں لکھتے تھے،میں نے جب خط کا جواب دیا انکا نام لکھا اور دستخط کیے۔