Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اپیکس کمیٹی کا دہشتگردی کے واقعات پر اظہار مذمت، دہشتگردوں کو پنپنے نہ دینے کاعزم | زرائع نیوز

اپیکس کمیٹی کا دہشتگردی کے واقعات پر اظہار مذمت، دہشتگردوں کو پنپنے نہ دینے کاعزم

پشاور: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کےمکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس کو مضبوط بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ تعاون کرے گی تاکہ دہشت گردی سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔ انہوں نے یہ بات پشاور کے حالیہ دہشت گردی کے واقعے کے حوالے سے جمعہ کو یہاں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اپنے ابتدائی خطاب میں کہی۔

وزیر اعظم نے پشاور کے دہشت گردی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا اور وفاقی حکومت کی جانب سے جاں بحق افراد کے لواحقین لئے 20 ، 20لاکھ روپے اور زخمیوں کے لئے 5، 5 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کا ایک تازہ سلسلہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے نمٹنے کے لئے اس کے سکیورٹی محکموں کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کی لعنت سے مل کر لڑنے کے لئے تمام صوبوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا۔

انہوں نے سانحہ پشاور کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری مہم کی مذمت کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔ شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،یہ واقعہ اور اس حوالے سے سکیورٹی لیپسز کی تحقیقات ہونی چاہئیں تاہم یہ کہنا کہ یہ ڈرون حملہ تھا یا بے جا الزامات کی بات کی گئی وہ غیر مناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند سال قبل دہشت گردی پرقابو پالیاگیاتھا، قوم سوال کررہی ہے کہ دہشت گردی دوبارہ کیوں سر اٹھا رہی ہے؟ ۔

انہوں نے کہا پوری پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے، وقت کی ضرورت ہے کہ سیاسی ، مذہبی رہنما اور قومی ادارے دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں۔ وزیراعظم نے کہا ماضی میں ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز میں عظیم قربانیاں دی گئیں، افواج پاکستان نے دلیری اور بہادری سے دہشتگردی کامقابلہ کیا، قوم ان کی قربانیوں کو سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا ہرکسی کو اپنی ذمہ داری کے بارے میں بات کرنی ہو گی، این ایف سی ایوارڈ کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے گزشتہ 13 سالوں میں خیبر پختونخوا کو 417 ارب روپے دیئے گئے، یہ کہاں خرچ کئے گئے، اس کا آڈٹ ہوناچاہئے۔

وزیراعظم نے کہا وفاق کی ذمہ داری ہے کہ صوبوں کو وسائل مہیا کرے، ملک اس وقت معاشی مشکلات کاشکار ہے تاہم وفاق چاروں صوبوں میں سی ٹی ڈی کو مستحکم کرنے کے لئے اقدامات کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا 7 فروری کو آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی ہے تاکہ موجودہ قومی چیلنجز پر قابو پانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس موقع پر اجلاس میں پشاور کی مسجد میں خودکش دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔صباح نیوز کے مطابق وزیراعظم نے کہا آئی ایم ایف بہت ٹف ٹائم دے رہا ہے، اس کی شرائط ناقابل تصور ہیں لیکن مجبوراً ہمیں پوری کرنی پڑیں گی۔

وزیراعظم نے چیئرمین پی ٹی آئی کا نام لئے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک پارٹی کے لیڈر دہشت گردوں کو بسانے کےلئے آگے بڑھ رہے ہیں لیکن اپنوں سے ہاتھ ملانے کےلئے تیار نہیں، یہ دہرا معیار نہیں چلے گا۔این این آئی کے مطابق وزیراعظم نے کہا آل پارٹیز کانفرنس میں ایک پارٹی کے لیڈر کو بھی مدعو کیا ہے جو مجھ سے ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتا، امید ہے نفی میں جواب نہیں آئے گا۔انہوں نے کہاکہ ذاتی پسند ناپسند سے بالاہوکر جدوجہد کرنی ہو گی۔

انہوں نے کہا دہشت گردوں کا کے پی میں ایک انچ پر بھی قبضہ نہیں ہے، وہ محض اِدھر ادھر پھرتے رہتے ہیں، اِنہیں یہاں کون لایا؟ کس طرح آئے؟، عجلت میں یہاں کا حصہ بنایا گیا ، قوم اس کا جواب چاہتی ہے۔اجلاس میں دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پولیس کو مضبوط بنانے اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے پر غور کیا گیا۔

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ، انٹیلی جنس سربراہان ، سیاسی رہنمائوں،آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری نے اجلاس میں شرکت کی۔دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پڑوسی ممالک سے بات کی جائے گی۔معاون خصوصی وزیر اعظم فیصل کریم کنڈی نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 6گھنٹے کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبہ پرامن بنائینگے،پڑوسی ممالک سے بات کرینگے ، ان کی زمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو۔اجلاس کے پوائنٹس کو کو 7فروری کی اے پی سی میں زیر غور لایا جائے گا۔