Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اسلام آباد چھاپے کا مقصد ہاؤسنگ اسکیم پر زبردستی قبضہ | زرائع نیوز

اسلام آباد چھاپے کا مقصد ہاؤسنگ اسکیم پر زبردستی قبضہ

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں متحدہ لندن کا اسلحہ برآمد ہونے اور متعدد ملزمان کی گرفتاری کی کارروائی مشکوک ہوگئی، معروف صحافی نے دعویٰ کیا ہے اس کارروائی کا مقصد ہاؤسنگ اسکیم پر قبضہ کرنا تھا جو مکمل ہوگیا۔

چینل 92 کے پروگرام مقابل میں گفتگو کرتے ہوئے صحافی عامر متین کا کہنا تھا کہ کنور معیز گزشتہ پانچ برس سے اسلام آباد میں مقیم ہیں اور وہ ٹاپ سٹی اسکیم کے مالک ہیں۔

عامر متین کا کہنا ہے کہ چار روز قبل رینجرز نے بھاری نفری کے ساتھ کنور معیز کے گھر پر چھاپہ مارا اور اہل خانہ کو زدوکوب کرنے کے ساتھ ساتھ بھائی ، بیٹۓ اور دیگر رشتے داروں کو حراست میں لے لیا۔

انہوں نے کہا کہ رینجرز کی نفری نے ہاؤسنگ اسکیم کے کاغذات کی تلاش کے دوران گھر میں توڑ پھوڑ کی اور بعد ازاں دفتر جاکر وہاں سے تمام ڈیٹا اپنی تحویل میں لے لیا۔

عامر متین کے مطابق وہ کنور معیز کے پڑوسی ہیں اور چھاپے کے بعد اُن کی اہلیہ بہت خوفزدہ ہیں، گرفتار ہونے والے کنور معیز کی اہلیہ کے مطابق چھاپے کے بعد ہاؤسنگ اسکیم پر رینجرز نے قبضہ کرلیا اور مخالف گروپ کے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔

دوسری جانب معروف صحافی رؤف کلاسرہ نے دعویٰ کیا کہ رینجرز نے اسلام آباد میں بھی کراچی جیسی حرکتیں زمینوں پر قبضے، لوگوں کو حراساں کرنا اور رقم طلب کرنے جیسی حرکتیں شروع کردی ہیں۔

روف کلاسرہ نے باوثوق انداز میں کہا کہ کنور معیز کے گھر پڑھنے والا چھاپہ دراصل زمین پر قبضے کے لیے تھا اور اب اُن سمیت دیگر گرفتار افراد کو کئی دن لاپتہ رکھ کر زبردستی کاغذات پر دستخط کرواکے جگہ حاصل کرلی جائے گی۔

ویڈیو دیکھیں

یاد رہے کنور مغیز، اُن کے سسر، بھائی، سمیت دیگر افراد پر ایم کیو ایم لندن کا الزام عائد کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا جن کا تاحال کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔