پاناما کیس:‌ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کے لیے سوال نامہ تیار کرلیا

جے آئی ٹی کی تفتیش کے دائرہ کار میں حماد بن جاسم بن جابر التھانی کا خط ایک افسانہ ہے یا حقیقت ہے جو نیلسن انٹرپرائزز لمیٹڈ اور نیسکول لمیٹڈ کے اصل فائدہ حاصل کرنے والے مالک ہیں، ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کیسے وجود میں آئی، فلیگ شپ انوسٹمنٹ لمیٹڈ اور وزیراعظم کے بیٹوں کی جانب سے قائم کی گئی یا حاصل کی گئی کمپنیوں کی رقم کہاں تھی اسی طرح حسین نواز کی جانب سے نواز شریف کو تحفے کے طور پر دی جانے والی بھاری رقم کہاں سے دی گئی جیسے سوالات کی تفتیش بھی شامل ہے۔

سپریم کورٹ نے ضرورت پڑنے پر وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو طلب کرنے کا اختیار بھی جے آئی ٹی کو دے دیا ہے۔

جے آئی ٹی نے قطر کے التھانی خاندان کو سفارتی راستوں سے شریف خاندان کے لندن میں آف شور کمپنیوں کی جائیداد کے حوالے سے تفصیلی سوالنامہ بھیجنے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے۔

جے آئی ٹی کی تفتیش کے دائرہ کار میں حماد بن جاسم بن جابر التھانی کا خط ایک افسانہ ہے یا حقیقت ہے جو نیلسن انٹرپرائزز لمیٹڈ اور نیسکول لمیٹڈ کے اصل فائدہ حاصل کرنے والے مالک ہیں، ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کیسے وجود میں آئی، فلیگ شپ انوسٹمنٹ لمیٹڈ اور وزیراعظم کے بیٹوں کی جانب سے قائم کی گئی یا حاصل کی گئی کمپنیوں کی رقم کہاں تھی اسی طرح حسین نواز کی جانب سے نواز شریف کو تحفے کے طور پر دی جانے والی بھاری رقم کہاں سے دی گئی جیسے سوالات کی تفتیش بھی شامل ہے۔

سپریم کورٹ نے ضرورت پڑنے پر وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو طلب کرنے کا اختیار بھی جے آئی ٹی کو دے دیا ہے۔

جے آئی ٹی نے قطر کے التھانی خاندان کو سفارتی راستوں سے شریف خاندان کے لندن میں آف شور کمپنیوں کی جائیداد کے حوالے سے تفصیلی سوالنامہ بھیجنے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام خط وکتابت اٹارنی جنرل کے دفتر کے ذریعے اور وزارت خارجہ سے کی جائے گی جبکہ جے آئی ٹی متوقع طور پر وزیراعظم، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز اور اسحٰق ڈار کو آئندہ دنوں میں سوالنامہ بھیج دے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کو ان سوالوں کے غیرتسلی بخش جوابات ملے تو تفتیشی ٹیم کریمنل پروسیجر کوڈ 1898، قومی احتساب آرڈیننس 1999 اور فیڈرل انوسٹی گیشن ایکٹ 1975 کے تحت وزیراعظم اور ان کے بیٹوں سمیت کسی بھی شخص کو معاملے کی تفتیش کے لیے طلب کرسکتی۔

بشکریہ ڈان نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں: