لندن: ایم کیو ایم کے بانی نے سابق صدر اور سپہ سالار جنرل (ر) پرویز مشرف کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اُسے بڑا سانحہ قرار دیا۔
اپنے ایک بیان میں بانی ایم کیو ایم نے کہا کہ ’پاکستان میں کئی بار آئین توڑ کر مارشل لا لگایا گیا مگر صرف جنرل (ر) پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا جس کی بڑی وجہ ڈومیسائل کا فرق ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ’جنرل مشرف مہاجر تھے اور اُن کا ڈومیسائل کراچی کا تھا، جب 1999ء میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تو پرویز مشرف ملک میں نہیں بلکہ بیرون ملک دورے سے واپسی پر طیارے میں سوار تھے، ملک میں ٹیک اوور اُن کے ماتحت افسران نے کیا لیکن آرٹیکل 6 کا مقدمہ صرف جنرل مشرف کے خلاف چلایا گیا‘۔
بانی ایم کیو ایم نے کہا کہ ’حکومت کا تختہ الٹنے والے کسی دوسرے افسر کے خلاف آئین شکنی یا اس میں معاونت کرنے پر غداری کا مقدمہ نہیں چلایا گیا‘۔ آئین کے آرٹیکل چھ کی شق دو کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’ قانون میں آئین توڑنے یا اسے معطل کرنے میں معاونت کرنے والا بھی غداری کا مرتکب قرار دیا گیا ہے‘۔
’مشرف کی معاونت پر نہ تو کسی افسر کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی آئین معطل کرنے کو جائز قرار دینے پر کسی جج کیخلاف مقدمہ چلایا گیا، یہ صرف اسلیے ہوا کہ مشرف اور اُن کے ڈومیسائل کا فرق تھا‘۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’میں آئین شکنی کے عمل کو جائز قرار نہیں دے رہا بلکہ اںصاف کے دہرے معیار کو اضح کررہا ہوں، اگر صحافی، دانشوروں اور اینکرز کے پاس اس کا جواب نہیں تو وہ عوام کو بے وقوف بنانا چھوڑ دیں‘۔
بانی ایم کیو ایم نے مزید لکھا کہ ’ملک کیلیے لڑنے والا پرویز مشرف آج جلا وطنی کی زندگی میں موت کی آغوش میں چلا گیا، اللہ تعالیٰ اُس کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ کو صبر دے‘۔
