Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
گڑھوں اور ٹوٹی سڑکوں نے شہریوں کو شدید تکلیف میں مبتلا کردیا، سندھ ہائی کورٹ | زرائع نیوز

گڑھوں اور ٹوٹی سڑکوں نے شہریوں کو شدید تکلیف میں مبتلا کردیا، سندھ ہائی کورٹ

کراچی : سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی نے نجی اسپتال کو پانی کا غیر قانونی کنیکشن دینے کیخلاف درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ جگہ جگہ گڑھوں اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ نے شہریوں کو شدید تکلیف میں مبتلا کردیا ہے۔

کسی بھی علاقے میں ڈی سی کی اجازت کے بغیر کھدائی نہیں ہونی چاہیے، چاہے کوئی آسمان سے بھی اترے۔ جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو نجی اسپتال کو پانی کا غیر قانونی کنیکشن دینے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈوکیٹ نجی اسپتال کی اطراف کی آباد کو پہلے ہی پانی فراہم نہیں کیا جاتا اور نجی اسپتال کو غیر قانونی کنکشن دیا جارہا ہے جس سے آبادی متاثر ہوگی۔ شہر میں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور گڑھوں پر عدالت نے تشویش کا اظہار کیا۔

جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جگہ جگہ گڑ ھوں اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ نے شہریوں کو شدید تکلیف میں مبتلا کردیا ہے۔ سالہسال سے گڑھے پڑے ہوۓ ہیں، پیدل چلنے اور موٹرسائیکل سوار روز گرتے ہیں۔

عدالت نے ڈی سی سینٹرل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا ان سڑکوں سے آپ لوگ نہیں گزرتے؟ جسٹس عقیل عباسی نے ڈی سی سینٹرل سے استفسار کیا کہ گٹر کی لیکج اور ڈھکن لگانے کیلئے بھی ٹینڈر کا انتظار کرنا پڑتا ہے؟ کہیں پانی آجائے تو سڑک پر گڑھے پڑجاتے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔

جسٹس عقیل احمد عباسی نے کہا کہ کسی بھی علاقے میں ڈی سی کی اجازت کے بغیر کھدائی نہیں ہونی چاہیے، چاہے کوئی آسمان سے بھی اترے۔ ڈی سی سینٹرل نے بتایا کہ خطیر رقم سے سڑکوں کا پیچ ورک جاری ہے، سڑکوں کی کھدائی کی اجازت کے ایم سی ڈی ایم سیز کا اختیار ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کوئی بھی اجازت دیتا ہو شہر کو بہتر بنانا سب کی ذمہ داری ہے۔