کراچی: باپ کے مبینہ قاتل کو تقریباً15 سال کے بعد دبئی میں گرفتار کرنے والے بہادربیٹی نے باپ کے قتل کو سوشل میڈیا فلیٹ فارم (لنکڈان) پروفائل سے شناخت کیا،ملزم کو گرفتارکرانے پران کے خلاف سوشل میڈیا پرایک منفی مہم شروع کردی گئی 48 گھنٹوں کے اندراندرمختلف سوشل میڈیا فلیٹ فارم پر300 سے زائد جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے اوران اکاؤنٹس کے ذریعے نہ صرف ان کی کردارکشی کی جا رہی ہے بلکہ انہیں مختلف طریقوں سے دھمکیاں بھی دی گئی دھمکیوں سے متعلقہ حکام کو آگاہ کردیا گیا .
تحقیقات کی جا رہی ہیں۔والد کے قاتل کی گرفتاری میں تعاون کرنے پرحکامِ بالا کی تہہ دل سے شکرگزارہوں.
باپ کے مبینہ قاتل کو تقریباً15 سال کے بعد دبئی میں گرفتار کرنے والے بہادر بیٹی ماہم امجد نے بتایا کہ ان کے والد محمد احمد امجد اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی میں ریجنل چیف سندھ بلوچستان کے عہدے پرفائض تھے اوران کے والد اسٹیٹ لائف کمپنی میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر پر 26 اگست 2008 کوآئی آئی چندریگر روڈ پرواقع اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے ہیڈآفس میں دن دیہاڑے فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا.
یہ ایک عام قتل نہیں تھا بلکہ ایک سرکاری عمارت میں سرکاری آفیسرکا قتل تھاجس بے دردی سے ان کے والد کو قتل کیا گیا وہ بیان نہیں کرسکتیں ،ماہم امجد کہتی نے ان کے والد کوسید تقی شاہ نامی شخص نے قتل کیا تھا اورسید تقی شاہ اسٹیٹ لائف کمپنی کا سیلزمنیجرتھا اوران کے والد کو دس گولیاں ماری گئی تھیں اوراسٹیٹ لائف کمپنی نے ایف آئی آرکٹوانےسے انکارکردیا تھا اورآج تک اس واقعے کی کوئی تحقیقات نہیں ہوسکی ہے اسٹیٹ لائف کا ایک سلوگن ہے (اے خدا میرے ابوسلامت رہیں)اس سلوگن نے انہیں 15 سال انتہائی تکلیف اوردرد میں مبتلا کررکھا اوروہ کئی راتوں کو سو نہیں سکی ہیں اورانہیں 15 سال لگے اپنے والد کے قتل کے خلاف آواز اٹھانے میں کیوں کہ وہ اب ایک پبلک فیگر بن چکی ہیں .
ماہم امجد نے بتایاکہ ان کے والد کوجب قتل کیا گیا تھا توان کی عمر 15 سال تھی اوربڑی بہن ان سے 4 سال بڑی تھیں،والدہ ایک گھریلو خاتون تھی والد کوقتل کرنے کے بعد ان کی فمیلی کو مسلسل دھمکیوں کا سامنا تھا والد کے قتل کے تین سال کے بعد ان کی فیملی لاہورمنتقل ہوگئی تھی اوروہ لاہورمیں بغیر کسی شناخت کے رہنے لگے تھے جہاں انھوں نے اپنی ایک الگ شناخت بتائی ماہم امجد نے بتایا کہ وہ گزشتہ5سال سے دبئی میں مقیم ہیں اورپراپرٹی کے کاروبارکے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ سے بھی منسلک ہیں .
ماہم امجد کا کہنا تھا کہ اب وہ 15 سال کی نہیں ہے اب ان کی عمر 29 سال ہے ان کی ایک الگ شناخت ہے انھوں نے اپنے والد کے قاتل کا سراغ لگا لیا ہے اور ان کے پاس تمام شواہد موجود ہیں اور اب میں اپنے فینزاورپاکستانی عوام سے درخواست کرتی ہوں کہ انھوں نے اپنی آواز ہر ایک عام انسان کے لیئے اٹھائی ہے .
انھوں نے کہا کہ اسٹیٹ لائف کمپنی کی وجہ سے ان کی فیملی جس اذیت سے گزری وہ کبھی نہیں بھولیں گی ،انہیں انصاف چاہئے اوراس کے لیے سب ہی سے مدد کی ضرورت ہے،ماہم امجد نے بتایاکہ 2020 میں انھوں نے ان کے والد کے مبینہ قاتل سید تقی شاہ کا پروفائل(لنکڈان) پر دیکھا تھا اورسید تقی شاہ کی پروفائل میں اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی میں ملازمت کرنے کا دورانیہ وہ ہی تحریر تھا جس دورانیہ میں ان کے والد اسٹیٹ لائف میں ملازمت کرتھے اوران کے والد کا قتل ہوا تھا جس پرانہیں شک ہوا اور انھوں نے سید تقی شاہ کی پروفائل اپنے والد کے ایک قریبی دوست کو بھیجی توانھوں نے تصدیق کردی کہ یہ وہ ہی سید تقی حیدر شاہ نے جس نے آپ کے والد کو قتل کیا اکتوبر2022 کوانھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے والد کو انصاف دلانے کے لیے آوازبلند کی اکتوبر2022 کو ہی انھوں نے ڈی آئی جی ساوتھ کو ایک خط ارسال کیا تھااورواقعے کی انکوائری کی درخواست کی تھی .
،ماہم امجد نے بتایا کہ انھوں نے کئی مرتبہ اسٹیٹ لائف انشورنس کے انتظامہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی کئی اس سلسلے میں انھوں فون کالزکی اورای میلز لکھی لیکن کوئی جواب نہ آیا .
ماہم امجد نے بتایا کہ والد کے مبینہ قاتل کوجیسے ہی متحدہ عرب امارات میں گرفتارکیا گیا توان کے خلاف سوشل میڈیا پرایک منفی مہم شروع کردی گئی اور48 گھنٹوں کے اندراندرمختلف سوشل میڈیا فلیٹ فارم پر300 سے زائد جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے اوران اکاؤنٹس کے ذریعے نہ صرف ان کی کردارکشی کی جا رہی ہے بلکہ انہیں مختلف طریقوں سے دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں دھمکیوں سے متعلق انھوں نے متعلقہ حکام کوآگاہ کردیا ہے اورانہیں ملنے والی دھمکیوں سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں 


.
