کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں 16 مارچ کو ہونیوالے ضمنی انتخاب روکنے سے متعلق پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اراکین قومی اسمبلی کی استعفوں کی منظوری کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیئے۔
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں جسٹس یوسف علی سعید پر مشتمل بینچ کے روبرو تحریک انصاف کراچی کے مستعفی ایم این ایز کی استعفوں کی منظوری کیخلاف اور 16 مارچ کو ضمنی انتخاب روکنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس نے استفسا کیا کہ سپریم کورٹ میں کیا ہوا ہے یہ بتائیں۔ پی ٹی آئی کے وکیل شہاب امام ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ سپریم کورٹ میں بھی ہے لیکن لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر موجود ہے۔ اگر استعفیٰ منظور کرنے سے پہلے کہہ دیں تو اسپیکر کے پاس اختیار نہیں ہے استعفیٰ منظور کرنے کا۔ انہیں غلط طور پر ڈی ناٹفائی کیا گیا ہے قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے استعفوں کی منظوری کا پروسیس قانون کے مطابق پورا نہیں کیا۔ استعفیٰ دینے والے ارکان سے انکے استعفوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے بھی اس فیصلے کی روشنی میں ایم این ایز کو ڈی نوٹیفائی کردیا۔ استعفوں کی منظوری کے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت نے 21 مارچ کے لئے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے کراچی میں 16 مارچ کو ہونے والے ضمنی الیکشن روکنے کی درخواست مسترد کردی۔
