نہال ہاشمی کا استعفیٰ:‌ چیئرمین سینٹ‌کا انوکھا اقدام

سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی کا استعفیٰ واپس لینے کی درخواست منظور کر لی ہے۔

بدھ کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران چیئرمین رضا ربانی نے 31 مئ کو سینیٹر نہال ہاشمی کی جانب سے دیے جانے والے استعفے کی واپسی کی درخواست منظور کر لی۔

اپنی رولنگ میں چیئرمین سینیٹ نے بتایا کہ نہال ہاشمی نے ان کے چیمبر میں ان سے ملاقات میں اپنے استعفے کی واپسی کی درخواست کی تھی۔

انھوں نے سیکریٹری سینیٹ سے کہا کہ وہ لیڈر آف دی ہاؤس اور مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر کو اس بارے میں آگاہ کر دیں۔

نہال ہاشمی کا موقف ہے کہ یہ استعفیٰ انھوں نے غیر معمولی حالات میں دیا تھا اور یہ کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے نہال ہاشمی کی تقریر کے ایک حصے پر مشتمل ویڈیو منظر عام پر آئی تھی، جس میں انہوں نے پانامہ کیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا تھا۔

بعدازاں وزیر اعظم نے نہال ہاشمی سے سینیٹرشپ سے استعفیٰ طلب کرتے ہوئے ان کی پارٹی رکنیت معطل کردی تھی جس کے بعد نہال ہاشمی نے اپنا استعفیٰ جمع کرادیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی نہال ہاشمی کی دھمکی آمیز تقریر کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

نہال ہاشمی سے ملاقات کے بعد چیئرمین سینیٹ رضا ربانی سے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد، سینیٹر مشاہد اللہ خان سمیت مسلم لیگ ن کے بعض دیگر رہنماؤں نے بھی ملاقات کی تھی۔ چیئرمین سینیٹ نے نہال ہاشمی کا استعفیٰ واپس لینے کی درخواست سے متعلق وزیر قانون سے مشاورت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: