الطاف حسین ملک دشمن نہیں، سلیم شہزاد

کراچی: متحدہ کے سابق رہنماء سلیم شہزاد نے کہا ہے کہ فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے جو روش اپنائی وہ غلط ہے، الطاف حسین میرے محسن ہیں اور میں انہیں ملک غدار نہیں سمجھتا، 22 اگست کے بعد شہری سندھ کا کوئی نمائندہ نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں سینٹرل جیل سے ضمانت پر رہا ہونے والے متحدہ کے سابق رہنماء نے خاموشی توڑ دی، لندن میں رہ کر الطاف حسین کی مخالفت کرنے اور انہیں ٹیلی ویژن شو میں للکارنے والے سلیم شہزادکے حیرت انگیز انکشافات سامنے آگئے۔

وسیم بادامی سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم شہزاد نے کہا کہ 2010 میں سازش کے تحت ایسے عناصر کو پارٹی میں مسلط کیا گیا جنہوں نے مسلح گروہ بنائے اور شہر میں قتل و غارت گری سمیت دہشت گردی کی متعدد وارداتیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ حماد صدیقی جیسے لوگ کارکنان کے سامنے جا کر کہتے تھے کہ بھائی فلاں بات پر ناراض ہیں، جس کے بعد انہی ہی کی ٹیم کے مسلح افراد کارکنان کے ساتھ وہ شہر میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے، سلیم شہزاد نے کہا کہ 2010 میں محسوس کیا کہ پارٹی کو تباہ کرنے والے عناصر آگئے جنہوں نے غیر قانونی جگہوں پر قبضہ کر کے چائنا کٹنگ شروع کی۔

بانی متحدہ کے خلاف اندرونی سازش کا انکشاف

سلیم شہزاد نے انکشاف کیا کہ نائن زیر پر رابطہ کمیٹی کے ممبرابن کی پیٹائی پہلے سے پلان تھی، ایک شخص نے سازش کے تحت اپنے لوگوں کو بلایا اور اُن کو آگے کی طرف بٹھایا جیسے ہی الطاف حسین نے غصہ کیا تو بلائے گئے لوگوں نے رابطہ کمیٹی کے اراکین پر حملہ آور ہوئے جس کے بعد پارٹی کی صورتحال کھل کر سامنے آئی۔

نائن زیر پر 2013 کے حوالے سے ہونے والی سازش کے بارے میں سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ دوبارہ معافی مانگنے والے شخص نے اُس روز اپنے لوگوں کو اور میڈیا کو بلاکر ویڈیوز بنوائیں تاکہ پارٹی بدنام ہوسکے۔ سلیم شہزدا نے کہا کہ اندروزنی سازش کرنے والوں کا مقصد اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا تھا تاکہ انہیں غلط کام سے کوئی نہ روک سکے اور ایسے تمام افراد آج کھل کر غلط کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سازش میں آج کی متحدہ پاکستان میں موجود بڑے بڑے عہدوں پر موجود شخصیات کا ہاتھ تھا، اس سازش کا مقصد یہ تھا کہ پارٹی سے الطاف حسین کی گرفت کمزور ہو اور بانی ایم کیو ایم کے نام کو صرف ووٹ مانگنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ متحدہ کے لوگ اندرونی طور پر دو سال سے پارٹی توڑنے کی کوشش کررہے تھے اور آج وہ سب متحدہ پاکستان میں بڑے عہدوں پر پہنچے ہیں۔

الطاف حسین نے کبھی دہشت گردی کا حکم نہیں دیا

سلیم شہزاد نے کہا کہ پاکستان میں موجود قیادت الطاف حسین کا نام لے کر کارکنوں کو استعمال کرتی رہی، میں جتنے عرصۓ بانی ایم کیو ایم کے قریب رہا اُن کے منہ سے کبھی اس طرح کے احکامات نہیں سنے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بانی ایم کیو ایم دہشت گردی کی تعلیمات یا کراچی میں دہشت گردی کے فروغ کے احکامات دیتے تو لندن کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 اب تک اُن کے خلاف سخت کارروائی کرچکی ہوتی کیونکہ اُن کے پاس کالز ریکارڈ ہونے کا سسٹم ہے اور برطانوی حکومت ایسے اقدامات کو پسند نہیں کرتی۔

فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال پر تبصرہ

سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال اورفاروق ستارنےجوروش اپنائی وہ غلط ہے، میں اپنے محسن کو کبھی گالی نہیں دیتا آج بھی مانتا ہوں کہ الطاف حسین میرے محسن ہیں مگر ان دونوں شخصیات نے یہی روش اپنائی جو غلط ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کی سیاست

متحدہ کے سابق رہنماء نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے بہت مایوس کیا، تمام کارکن فاروق ستار کی قیادت سے نالاں ہیں، فاروق ستار کی لاٹری لگ گئی مگر کارکنان اور اراکین اسمبلی اپنے سربراہ سے ناخوش ہیں۔

فاروق ستار کو سربراہ ماننے کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال پر سلیم شہزاد نے کہا کہ انہیں غلطی سے سربراہ کہا مگر آج بھی انہیں ہی پاکستان گروپ کا سربراہ سمجھتا ہوں۔

ایم کیوایم پاکستان والوں سےکوئی رابطہ نہیں اور نہ ہی اُن کی جماعت میں شمولیت کا کوئی امکان ہے کیونکہ مجھے مستقبل میں اُن کی سیاست کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی، ممکن ہے آنے والے دنوں میں فاروق ستار کی آواز آئے کہ ” بھائی مجھے معاف کردیں”

پی ایس پی پر تبصرہ

سلیم شہزاد نے کہا کہ میرے واپسی پر مصطفیٰ کمال کا تبصرے کا مقصد یہ تھا کہ اعلیٰ اداروں جن سے پاک سرزمین پارٹی کی قیادت کو کلیئرنس ملی اُن سے کلیئرنس لے کر آتا مگر میں نے ایسا نہیں کیا تاہم پی ایس پی کے مرکزی قائدین نے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔

ویڈیو دیکھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں: