Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
صدر کا سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل پر دستخط سے پھر انکار، واپس بھیج دیا | زرائع نیوز

صدر کا سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل پر دستخط سے پھر انکار، واپس بھیج دیا

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور شدہسپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل پر دستخط سے پھر انکار کردیا ۔صدر مملکت نے سپریم کورٹ ( پریکٹس اینڈ پروسیجر ) بل ، 2023 ء دستخط کیے بغیر واپس بھیج دیا۔

صدر مملکت نے موقف اختیار کیا کہ قانون سازی کی اہلیت اور بل کی درستگی کا معاملہ ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی فورم کے سامنے زیر سماعت ہے، معاملہ زیرسماعت ہونے کے احترام میں، بل پر مزید کوئی کارروائی مناسب نہیں ۔واضح رہے کہ صدر کے دستخط کرنے یا نہ کرنے کی صورت میں بل نے قانون بن جانا تھا ۔عدالت عظمیٰ کی طرف سے اس پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نیشنل یونیورسٹی آف پاکستان بل 2023 کی توثیق کردی ۔ ایوان صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق بل کا مقصد اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف پاکستان کا قیام عمل میں لانا ہے۔

صدر مملکت نے پیر روشان انسٹیٹیوٹ آف پراگریسو سائنسز اینڈ ٹیکنالوجیز میران شاہ بل 2023 کی بھی توثیق کر دی ہے۔ بل کا مقصد میران شاہ خیبر پختونخوا میں پیر روشان انسٹیٹیوٹ کا قیام ہے ۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بلز کی توثیق آئین کے آرٹیکلز 70 اور 75 کے تحت کی ہے۔علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انشورنس کمپنی کو بیوہ کو 3 لاکھ کا انشورنس کلیم ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے سٹیٹ لائف انشورنس کی اپیل کو مسترد کردیا۔

ایوانِ صدر کےمیڈیا سیل کے مطابق اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی نے بیوہ کو لائف انشورنس کلیم کی ادائیگی سے انکار کردیا تھا۔ اسٹیٹ لائف نے مؤقف اپنایا کہ متوفی کی موت سڑک حادثے سے براہ راست نہیں بلکہ مرگی کی وجہ سے ہوئی۔

صدر مملکت نے اسٹیٹ لائف کا مؤقف مسترد کردیا اور وفاقی محتسب کے احکامات برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ لائف مناسب قواعدو ضوابط اپنائے اور بدانتظامی کو روکے۔

صدر مملکت نے کہا کہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ متوفی کی موت مرگی سے براہ راست ہوئی، محتسب نے بجا طور پر فیصلہ کیا کہ محض پولیس روزنامچے پر انحصار کیا گیا۔

صدر نے کہا کہ اسٹیٹ لائف کے فیلڈ آفیسر کی رپورٹ میں متوفی پالیسی ہولڈر کو صحت مند قرار دیا گیا۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ چونکہ بدانتظامی ثابت ہوئی اسلئے اسٹیٹ لائف تیس دن میں شکایت کنندہ کو کلیم ادا کرے ۔

ریحانہ بی بی (شکایت کنندہ) کے متوفی شوہر اکرم مسیح نے 20 سال کیلئے 3 لاکھ روپے کی لائف انشورنس پالیسی حاصل کی، اکرم مسیح کی موت سڑک حادثے میں ہوئی، موت کے بعد بیوی نے انشورنس کا دعویٰ کیا۔ خاتون نے وفاقی محتسب سے رابطہ کیا جس نے اس کے حق میں حکم جاری کردیا۔