Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
سینکڑوں جانیں بچانے والا بھارتی بائیک ایمبولینس دادا’’ کریم الحق‘‘ | زرائع نیوز

سینکڑوں جانیں بچانے والا بھارتی بائیک ایمبولینس دادا’’ کریم الحق‘‘

بنگال: انڈین ریاست مغربی بنگال میں چائے کے باغات والے علاقے جلپائی گوڑی کے ایک گاؤں کے ایک چھوٹے سے کمرے میں کریم الحق وہ شخصیت ہیں جو اب تک سینکڑوں جانیں بچا چکے ہیں۔

کریم الحق نےاپنی موٹر سائیکل کو ایمبولینس کے طور پر استعمال کرکے یہ کام انجام دیا ہے۔

وہ گزشتہ 25 برس سے آس پاس کے تقر یباً 20 دیہات کے مریضوں کو مفت ہسپتال پہنچاتے رہے ہیں۔ مقامی لوگ انھیں ’’بائیک ایمبولینس دادا‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ کریم الحق نے بتایا اب تک میں نے 6500 سے زیادہ مریضوں کو ہسپتال پہنچایا ہے۔

مریضوں کو 50 سے 70 کلومیٹر دور جلپائی گوڑی اور سلی گوڑی شہر کے ہسپتال لے جانا پڑتا ہے۔ برسوں پہلے کریم الحق کی والدہ علاج کے بغیر وفات پا گئی تھیں۔

ایمبولینس نہ ہونے کے سبب انھیں ہسپتال نہیں پہنچایا جا سکا تھا اور ان کی موت ہو گئی۔ انہوں نے بتایا میں ایمبولینس کے لیے ساری رات بھٹکتا رہا لیکن کوئی ایمبولینس یا گاڑی نہیں ملی۔ رات چار بجے ماں فوت ہو گئیں۔ میں نےاسی دن قسم کھا لی کہ میں گاؤں کے کسی شخص کو علاج کے بغیر مرنے نہیں دوں گا۔کریم الحق خود ٹی گارڈن ورکر ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان کے بارے میں خبریں سوشل میڈیا پر آنے لگیں اور لوگوں نے ان کی مالی مدد کرنا شروع کی۔ لوگوں کی مدد سے ان کے گھر ایک کلینک بنایا گیا۔

انسانیت کی خدمت کے اعتراف میں انڈیا کی حکومت انھیں ’’پدم شری‘‘ کے اعلی سویلین ایوارڈ سے نواز چکی ہے جبکہ درجنوں ملکی اور بین الا قوامی تنظیموں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔

کریم الحق کی خواہش ہے کہ وہ یہاں ایک چھوٹا سا ہسپتال کھولیں۔