امریکی سینٹرز سے ملک مخالف ملاقاتیں؟

بائیس اگست کے بعد 23 اگست اور پھر پہ در پہ فاروق ستار کے اعلانات کہ ہم نے بانی ایم کیو ایم سے لاتعلقی کرلی، پھر کارنر مٹینگز میں کارکنان کو بولنا کہ ہم نے دراصل لندن ٹولے سے لاتعلقی کی ہے الطاف بھائی تو بانی ایم کیو ایم ہیں اور پھر جلسوں پریس کانفرنس میں اعلان کرنا کہ ہم مہاجروں کے مینڈیٹ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔

کراچی آپریشن ایم کیو ایم میں ٹوٹ پھوٹ سے دو سال پہلے جاری ہے، اس آپریشن میں جب کارکنان لاپتہ، ماورائے عدالت قتل اور بلاجواز گرفتار کیے گئے تو فاروق ستار ، نسرین جلیل اور دیگر رہنماؤں نے امریکا سمیت دیگر طاقتور ممالک جن کی پاکستان میں بات مانی جاتی ہے اُن کو مدد کے لیے خطوط تحریر کیے بلکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسرائیل اور بھارت سے مدد طلب کی تھی اور وہ ای میل پکڑی بھی گئی تھی۔

ای میل میں بھارتی وزیراعظم سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ کراچی آپریشن میں ہونے والے مظالم کے خلاف دنیا بھر میں اپنی آواز بلند کریں اور ہمیں انصاف دلوائیں، پھر میڈیا نے شور کیا تو فاروق ستار صفائیاں پیش کرنے لگے اور مسلسل جھوٹ کے بعد بلاآخر تسلیم کیاکہ خط انہی کے نام اور لیٹر ہیڈ پر ای میل کیا گیا۔

فاروق ستار اسٹیبشلمنٹ کو باور کرواچکے ہیں کہ مہاجر مینڈیٹ اُن کے ساتھ ہے اور وہ آئندہ انتخابات میں کراچی سے واضح اکثریت میں برتری حاصل کرلیں گے مگر جب مقتدر حلقوں نے عوامی پاور شو کرنے کے لیے فاروق ستار کو موقع فراہم کیا تو وہ اس میں ناکام دکھے اور ابھی تک ہونے والے عوامی پروگرامز میں بانی ایم کیو ایم کے نعرے لگتے نظر آئے۔

فاروق ستار کی امریکی سینیٹرز سے ملاقاتوں کی یادگار فوٹو

یہ بات حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کی پاکستان میں موجود قیادت یعنی پی آئی بی کے ساتھ کارکنان موجود ہیں اور جو نہیں ہوتا اُسے گمشدگی یا حراست سے رہا کرواکر اپنا بنایا جاتا ہے یعنی خود کروا کے خود ہی سہلایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ لندن ٹولہ کچھ بھی نہیں کرتا دیکھیں آپ کو مشکل میں پھنسا دیا مجبورا وہ کارکن  ہنسی خوشی جبری طور پر ساتھ دیتا ہے اور اُس کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ہمارا بانی ایم کیو ایم سے ہی تعلق ہے۔

گزشتہ دنوں لندن میں موجود ایم کیو ایم کے کنویئر نے امریکا میں مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کیں جن میں سینیٹرز بھی شامل ہیں، لندن اعلامیے کے مطابق اُن ملاقاتوں میں پاکستان میں پختون، بلوچ، سندھی اور مہاجروں پر ہونے والے مظالم پر توجہ دلانا تھا۔ خیر اُن ملاقاتوں کا مقصد جو بھی ہو میری نظر میں وہ پہلے جیسی ملاقاتیں ہی تھیں جیسی فاروق ستار اور نسرین جلیل سمیت دیگر لوگ کرتے آرہے تھے کیونکہ امریکا میں موجود ذمہ داران مختلف اوقات میں جنیوا کی بلڈنگ میں داخل ہونے میں بھی کامیاب ہوئے تاکہ مظالم کا چہرہ دکھا سکیں مگر وہ ماضی میں ناکام دکھائی دیے۔

خیر ندیم نصرت نے امریکی سینٹرز کے ساتھ تصاویر جاری کیں جنہیں دیکھ کر بہت سارے لوگ غصہ ہوگئے، وہی فاروق ستار اور ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت جو ندیم نصرت کو جھوٹا، مکار، کرپٹ بھگوڑا، مرعاتی یافتہ، امیر ترین شخصیت قرار دیتی تھی اب ان تصاویر پر سخت پریشان نظر آرہی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نے ان ملاقاتوں کو پاکستان مخالف ملاقات سے تشبیہ دی اور انہوں نے ببانگ دہل اعلان کیاکہ امریکا میں ایک ٹیم تیار کریں گے جو ان ملاقاتوں میں ہونے والے نکات کو مسترد کرتے ہوئے ندیم نصرت کو جھوٹا قرار دے گی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فاروق ستار کی سیاست پاکستان میں ، مہاجر قوم کا مینڈیٹ اُن کے پاس، وہ پاکستان کی سیاسی جماعت کے سربراہ، لاپتہ کارکنان کے مقدمات کی سختی سے پیروی کروانے والی جماعت اور ماورائے عدالت قتل ہونے والے کارکن کے جنازے میں نہ صرف نئے کپڑوں میں شرکت کرنا بلکہ روایتی جملوں سے اور کھچے لہجے سے اشعار کے ساتھ احتجاج کرنے والی قیادت کو یہ ملاقاتیں پاکستان مخالف کیوں نظر آئیں۔

ہم فاروق ستار کے بیان کو پہلے رکھتے ہوئے اگر یہ بات مان بھی لیں کہ ندیم نصرت جھوٹی شخصیت کے حامل ہیں تو بھی ان تصاویر پر ایسا ردعمل نہیں دینا چاہیے اور اس ملاقات کا دوسرا اہم نقطہ جس کی طرف فاروق ستار نے اشارہ دیا کہ یہ ملاقاتیں پاکستان مخالف ہیں تو انہیں کیسے پتہ؟ کیا ماضی میں وہ بھی امریکی سینٹرز اور دیگر شخصیات کے ساتھ پاکستان مخالف ملاقاتیں کرتے رہے ہیں؟۔

اگر واقعی ایسا ہے تو اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے وہ اپنے لکھے اسکرپٹ پر غور کرے کیونکہ میرا نہیں خیال کہ پاکستان کے کوئی ٹکڑے کر سکتا ہے کیونکہ ہمارا ملک ستائیس رمضان کو بنا ہے اور اس کی حفاظت اللہ کے ذمہ ہے چاہیے ہم کچھ بھی کریں باقی وہ بنگلہ دیش بنا تھوڑی بلکہ ہم نے خود تحفے میں سرزمین کے ساتھ یونیفارم اور اسلحہ بھی دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: