١٩ جون 1992 , آج سے 27 برس قبل کراچی میں ایک ایسے آپریشن کا آغاز ہوا جس کے نتائج انتہائی بھیانک نکلے، ریاست کی غیر زمےدارانہ اور متعصبانہ پالیسیز نے اس آپریشن کو ایسا رنگ دے دیا کہ گویا یہ ایک پوری قوم کے خلاف کی جانے والی کاروائی ہے اور حقیقت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔

ہزاروں بے گناہ لوگ شہید کر دیے گئے ، ایک پوری نسل ہے جو بن باپ کے جوان ہوئی ، آج جوان لڑکے ہیں کہ جنہوں نے اپنے باپ کو نہیں دیکھا، بہنیں ہیں جو جوانی میں بیوہ ہو گیئں اور پھر دوبارہ گھر نہ بسا سکیں — مائیں ہیں جن کی آنکھیں ویران ہیں ، باپ ہیں کہ جن کے بڑھاپے کا سہارا چھین لیا گیا — بزرگ ہیں جو دن رات اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں —

دکھ صرف اس بات کا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ ماورائے عدالت ہوا ، اگر مارے جانے والے گناہگار بھی تھے تو کیا ان کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کی اجازت نہیں تھی ؟ کیا ان کا حق نہیں تھا کہ وہ عدالت میں پیش کئے جاتے ؟ کیا قانون کا نفاذ کرنے والوں کو قانونی تقاضاے پورے نہ کرنے کی اجازت تھی ؟

زندہ قومیں اپنے ماضی سے سبق سیکھا کرتی ییں ، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری ریاست نے کچھ نہیں سیکھا ۔۔۔ ۔ ۔ جو کچھ پچیس برس پہلے ہوا وہی سب آج بھی ہو رہا ہے اور اس بار زیادہ شدّت کے ساتھ ہو رہا ہے ….ریاست کو چاہیے کہ اپنی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ان سے سیکھے ، لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھے ان بھرے زخموں پر نمک رکھنے سے باہمی نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا —–

اس ملک کی عدالتوں کو مستحکم کریں ، قانون سے ماورا قانون نافذ کرنے والے بھی نہیں ہیں— مت بھولئیے کہ ایسے رویے نفرت کو جنم دیتے ہیں ، اور نفرت بغاوت کو — اور بغاوت تب ہی ہوتی ہے جب آپ اپنوں کو اپنا نہیں سمجھتے
بقول شاعر :
سمجھا نہیں گیا جو مجھے گھر کا آدمی
مجھ میں بکھر گیا میرے اندر کا آدمی
احمد اشفاق
