پاراچنار میں قیامت ٹوٹ پڑی، سینکڑوں افراد جاں بحق

ہنگو: پارا چنار کی سبزی منڈی میں دھماکے کے نتیجے میں 20 افرد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، آئی ایس پی اآر نے ہلاکتوں کی تصدیق کردی۔

دھماکے سے متعلق  پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پارا چنار کی سبزی میں دھماکے سے 19 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہو ئے، جنہیں مقامی افراد اور امدادی ٹیموں کے اہلکاروں نے فوری طور پر ایجنسی ہیڈ کوارٹر کے اسپتال منتقل کیا۔

تمام زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہیں جبکہ جاں بحق ہونے والے افراد کو قانونی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق دھماکا ریموٹ کنٹرول کے ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا اور دھماکا خیز مواد پھلوں کی پیٹی میں چھپا کر رکھا گیا تھا۔

پولیٹیکل انتظامیہ نے مزید کہا ہے کہ دھماکے کے وقت مارکیٹ میں عوام کا رش تھا جبکہ اسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ساجد طوری واقعے کی اطلاع کے فوری بعد جائے وقوعہ پہنچے اور امدادی کاموں کی نگرانی کرنے لگے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ساجد طوری نے کہا کہ دھماکہ سیب کی پیٹی میں نصب بم پھٹنے سے ہوا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جن کی حالت تشویشناک ہے تاہم ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دھماکے میں 20 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیسی ساختہ بارودی سرنگ کا دھماکہ 8 بج کر 50 منٹ پر ہوا، فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے تخریب کاروں کی گرفتاری کے لئے آپریشن شروع کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے 30 افراد کو پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پارا چنار دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے دھماکے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے بھی پارا چنار دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے شہریوں پر حملہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں، خیبر پختونخوا حکومت زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں