ملتان: سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کے والد نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔
اداکارہ اور ماڈل کے والد نے مفتی قویٰ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاری سے قبل مفتی قویٰ نے ایک کروڑ روپے (دیت) کی پیش کش کی تھی تاکہ ہم مقدمہ واپس لے سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مفتی القویٰ نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر بیٹی کو قتل کرنے اور لاش کو دریا میں پھینکنے کا پلان بنایا تھا جو ناکام رہا، ہم بیٹی کے قاتلوں کو کٹھرے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ قندیل بلوچ قتل کیس میں عدالتی حکم پر پولیس نے چار روز قبل مرکزی ملزم مفتی قویٰ کو گرفتار کیا اور عدالت نے انہیں ریمانڈ پر جیل روانہ کیا، دورانِ ریمانڈ مفتی قوی کی طبیعت خراب ہوئی جس کے بعد انہیں عارضہ قلب کے اسپتال منتقل کیا گیا۔

گرفتاری کے ایک روز بعد سے مرکزی ملزم اسپتال میں داخل ہے اور اُس نے کل عدالت میں پیش ہونے سے بھی معذرت کرلی تھی۔

دوسری طرف تفتیشی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ قندیل قتل کیس میں نئی پیشرفت سامنے آئی، سیلفی کے علاوہ بھی کچھ ایسی تصاویر موجود ہیں جو اداکارہ کے قتل کا باعث بنیں۔
