Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
'مشرف نے 4 ہزار پاکستانی شہری دوسرے ملکوں کے حوالے کیے' | زرائع نیوز

‘مشرف نے 4 ہزار پاکستانی شہری دوسرے ملکوں کے حوالے کیے’

اسلام آباد: سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نےکم و بیش 4 ہزار پاکستانی شہری دوسرے ملکوں کے حوالے کیے، جن میں سب سے زیادہ شہری امریکا کے حوالے کیے گئے۔

یہ اعتراف جسٹس (ر)جاوید اقبال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال، جو قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین بھی ہیں، نے بتایا کہ مشرف حکومت نے پاکستانیوں کے بدلے امریکی ڈالر لیے۔

بریفنگ کے دوران جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بتایا کہ پاکستانیوں کو دوسرے ممالک کے حوالے کرنے کی ‘خفیہ کارروائی’ میں سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ بھی شریک رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے قانون میں ایسی بے دخلی کے بارے میں کوئی شق نہیں اور نہ ہی پارلیمنٹ سمیت کسی کی بھی جانب سے پرویز مشرف اور آفتاب شیرپاؤ کی ان کارروائیوں پر آواز اٹھائی گئی۔

یاد رہے کہ پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کو ملک میں فوجی قانون نافذ کرنے کے بعد اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو جبراً معزول کردیا تھا، بعدازاں وہ ملک کے دسویں صدر منتخب ہوئے اور 18 اگست 2008 تک اس عہدے پر براجمان رہے۔

11 ستمبر 2001ء کو امریکی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد 13 ستمبر 2001ء کو مشرف نے امریکا کے مطالبات تسلیم کیے اور یوں پاکستان، امریکی جنگ میں باقاعدہ طور پر شامل ہو گیا۔

اس جنگ کے دوران پرویز مشرف نے امریکی ہدایات پر 689 افراد کو گرفتار کیا جن میں سے 369 افراد بشمول خواتین کو امریکا کے حوالے کیا گیا اور اس کے عوض امریکا سے کئی ملین ڈالرز کے انعام وصول کیے۔ اس بات کا اعتراف انہوں نے اپنی کتاب ‘اِن دی لائن آف فائر’ (In The Line Of Fire) میں بھی کیا۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔